ہم کہاں سے آئے (پہلی قسط)... وصی حیدر

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

ہمارے ملک میں یہ بحث کافی شددت سے ہوتی رہی ہے کہ ہم یہاں کے اصلی رہنے والے ہیں اور باقی سب باہر کے ہیں اور اس لئے اس ملک پر صرف ہمارا حق ہے اور باقی لوگوں کو اگر رہنا ہے تو ہماری فوقیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور ہماری مرضی سے ہی یہاں رہ سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کا ذکر ہو کہ سائنس اور خاص کر جنیٹکس کی موجودہ سمجھ نے اس سلسلہ میں سچائی کو بالکل صاف کردیا ہے کہ افریقہ کے باہر تمام موجودہ انسانی نسل افریقہ میں پیدا ہوئے انسان کی اولادیں ہیں۔

1758 میں کارل لینس نے موجودہ انسانی نسل کو ہوموسپین (Homo Sapiens) کا نام دیا ۔ یہ ایک لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’عقلمند انسان‘‘ ہے۔ انسان کی اور بھی نسلیں مختلف جگہوں پر ارتقا کی منزلوں کی طرف بڑھیں، لیکن وہ بہت سی وجوہات سے ختم ہوگئیں اور ہم سب اب صرف ہوموسپین ہی رہ گئے۔ اس لئے یہ بحث ’’میں یہاں پہلے آیا‘‘ تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں چلی گئی۔ موجودہ تحقیات نے جو بات صاف کی ہے وہ مندرجہ ذیل انسانی تہذیب کی چند تاریخوں سے سمجھنا آسان ہے۔

مراکش (Morocco) کے شہر صافی سے تقریباً پچاس کلو میٹر کی دوری پر ایک غار میں 3 لاکھ سال پرانا (سب سے زیادہ پرانا) انسانی ڈھانچہ ملا۔

-افریقہ کے باہر اسرائیل کے شہر مسیلیا (Misiliya) شہر میں ایک پہاڑ کی غار میں سب سے زیادہ پرانا انسانی ڈھانچہ ایک لاکھ اسی ہزار(180000) سال پرانا دریافت ہوا۔

جنیٹکس کے ماہرین اپنی تحقیات سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ تقریبا 70000ہزار سال پہلے افریقہ سے بہت سارے انسانوں (Homo Sapiens) نے نئی جگہوں کی تلاش میں ہجرت کی۔ اس ہجرت کو ہم کامیاب ہجرت کہتے ہیں کیونکہ یہ پوری دنیا میں ہم انسانوں کے جدو امجد ہیں۔ اس کا امکان بہت ہے کہ ان ہجرت کرنے والے لوگ جنوبی راستہ یعنی موجودہ اریٹیریا اور ڈجیبوٹی (Djibouti)کے راستہ ایشیا موجوہ یمن میں داخل ہوئے۔

-افریقہ سے آنے والے کچھ انسانی غول تقریباً 65000 سال پہلے ہندوستان پہنچے۔ یہ لوگ ہمالیہ پہاڑوں کے بیچ کے آسان راستوں سے اور کچھ سمندر کے کنارے آئے۔

اپنے اس سفر میں وہ ہندوستان کے اندرونی حصہ میں رہنے والی اور انسانی نسلوں(جو بعد میں سب ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئیں) سے دور دور رہے اور ان میں سے بہت یہیں بس گئے اور ہم انہیں ہوموسپین کی نسل سے ہیں۔

ان لوگوں میں سے کچھ آگے بڑھتے بڑھتے برما، انڈونیشیا اور آسٹریلیا تک جاپہنچے۔

-ساٹھ سے چالیس ہزار سال پہلے کے وفقہ میں افریقہ سے آنے والے انسان کی اولادوں نے ایشیا اور یورپ کو آباد کردیا اور انسانوں کی دوسری نسلیں ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئیں۔

- یورپ میں پائی گئی انسانوں کی دوسری نسل Neanderthals تقریباً چالیس ہزارسال پہلے ختم ہوگئی۔ اس نے اپنے آخری دنوں پرتگال اور اسپین میں پناہ لی۔

- پیطالیس سے بیس ہزار (2000-45000)سال پہلے یہ پہلے ہندوستان میں بسنے والے افریقہ سے آئے ہوئے انسانوں نے پتھروں کو گھِس کر اوزاروں کا استعمال کرنے کا طریقہ ایجاد کیا، جس کو سائنسدان مائکرو لتھک (Microlithic)ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس دوران ان کی آبادی تیزی سے بڑھی اور انھوں نے ہندوستان کا مشرقی (Eastern)اور بیچ کا حصہ آباد کیا۔

- سائبیریا اور امریکہ کے بیچ بیرنگیا (Beringia)کے زمینی راستہ سے ہوتے ہوئے سولہ ہزار (16000)سال پہلے امریکہ سب سے آخر میں آباد ہونے والا براعظم بنا۔

پانچ ہزار (5000)سال پہلے بولان پہاڑiوں کے پاس پاکستان کے بلوچستان کے مہر گڑھ میں پہلا کاشتکاری کرنے والوں کا پہلا گاؤں آباد ہوا۔ اس کی آبادی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اور دریائے سندھ اور بہرِ روم کے بیچ یہ سب سے بڑی آبادی کا زراعتی علاقہ بنا۔

- سات ہزار سے تین ہزار (3000-7000)ق م کے دوران ایران کے ذغروز علاقہ سے آنے والے انسانوں کے غول ایشیا کے شمالی حصہ میں بسے ہوئے لوگوں میں گھل مل گئے۔ جنیٹکس کے ماہرین کا خیال ہے کہ گھلنے ملنے کا یہ عمل کم از کم (BC 3000-47000) میں خوب ہوا۔ اس بات کے ثبوت ملتے ہیں کہ (BC 2600-7000کے دوران مہرگڑھ میں رہنے والوں نے گیہوں اور جوار کی کھیتی سیکھ لی اور کچھ جانوروں کو پالتو بنانے کا عمل شروع کیا۔

انسانی آبادی کے نئ جگہوں کے پھیلنے کا یہ عمل جاری رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ ہم اگلی تاریخوں کا ذکر اسی عنوان سے اگلی قسط میں ہوگا۔