ہم کہاں سے آئے... دوسری قسط

پچھلی قسط میں یہ ذکر ہوا کہ افریقہ سے آنے والے ہوموسپین انسانوں نے ایشیا اور خاص کر ایران اور ہندوستان کو آباد کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

وصی حیدر

مہر گڑھ (ایران) کی یہ آبادی 2000-2600 BC کے دوران ختم ہوگئی لیکن اس وقت تک زراعت کا سلسلہ بہت اور جگہوں پر شروع ہوگیا، خاص کر شمالی مغربی ہندوستان، سندھ اور گھاگر۔ ہو کر دریایوں کے آس پاس کے علاقے اور گجرات میں سات ہزار (ق م) کے آس پاس اس چیز کے ثبوت ملتے ہیں، اوپری گنگا اور لاہورا ڈیوا (Lahura Diva)سنت کبیر نگر میں چاول کی کھیتی ہونے لگی اور بہت جگہوں پر مستقل سکونت والے گاؤں وجود میں آنے لگے، ان جگہوں کے علاوہ کھیتی باڑی میں کئی طرح کے تجربات بھی لوگوں نے کرنے شروع کر دیئے۔ اس کا مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ مہر گڑھ اکیلی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر زراعتی تجربہ کیے جا رہے تھے۔

2600-5500 (ق م) کے دوران ہڑپا تہذیب کا ابتدائی دور میں زراعتی آبادیاں دھیمے دھیمے انوکھے طرح کے شہروں میں تبدیلی ہو رہی تھیں۔ یہ تبدیلیاں خاص کر موجودہ ہندوستان کے کالی بنگان اور راکھی گڑھی میں اور موجودہ پاکستان کے بناولی اور رحمان ڈیھری کے علاقوں میں نئی طرز کے شہروں کی شکل میں ہوئیں۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں خاص کر مشرقی راجستھان، جنوبی علاقہ دندھیا کے آس پاس، مشرقی ہندوستان اور کشمیر کی سوات ویلی میں ابتدائی کھیتی باڑی 1500-3700 (ق م) کے دوران شروع ہوئی۔

ہڑپا کی تہذیب اپنے پورے شباب پر تقریباً 1900-2600 (ق م) میں ابھری۔ اس دوران بہت ساری نئی آبادیاں قائم ہوئیں جن میں ایک زبان، مہریں، آرٹ اور چیزوں کے وزن کو ناپنے کے ایک طرح کے پیمانے استعمال ہونے لگے۔ ابتدائی زمانہ سے اس عروج تک آنے میں چار، پانچ پشتوں یعنی سو، ڈیڑھ سو سال کا وقت لگا۔

شمالی افغانستان، جنوبی ازبکستان اور مغربی تاجکستان کے علاقوں میں ایک بڑی تہذیب 1700-2300 ابھری جس کو ماہرین بی ایم اے سی کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا ہڑپا کے لوگوں سے مسلسل تجارتی لین دین اور تہذیبی تعالق رہا۔ کزاخ (Kazakh)کی چراہ گاہوں کے رہنے والے لوگوں نے نئی جگہوں کی تلاش میں جنوب کی طرف ہجرت (2100 ق م کے دوران) جنوب اور مرکزی ایشیائی علاقوں یعنی ترکمنستان، ازبکستان اور تاجکستان کی طرف ان کا کچھ اثر ضرور بی ایم اے سی پر پڑا، لیکن پورے ایک ہزار سال تک 1000-2000 ق م یہ لوگ جنوبی ایشیا کی طرف آتے رہے۔

چین میں زراعتی انقلاب کے بعد بڑھتی آبادی نے 2000 ق م کے آس پاس دو مرتبہ بڑہ ہجرت سے پورے جنوبی مشرقی ایشیا کو اثر انداز کیا۔ یہ لوگ اپنے ساتھ نئے پیڑ پودھے اور چاول کی نئی قسمیں اور زبانیں بھی اپنے ساتھ ہندوستان لائے۔ مرکزی ایشیا کی چراگاہوں سے 1000-2000 ق م کے دوران متعدد بار شمالی ایشیا کی طرف لوگوں نے ہجرت کی یہ لوگ اپنے ساتھ نئی زبانیں، مذاہب اور رہن سہن کے طریقوں کو لے کر آئے۔ ہڑپا کو زوال 1300-1900 ق م کے دوران شائد بہت لمبے عرصے تک زبردست سوکھا پڑنے سے ہوا اور پھر یہ شاندار تہذیب تاریخ کے صفحوں میں دفن ہوگئی۔

اوپر بیان کی گئی تاریخوں سے یہ بات اوبھر کر آتی ہے کہ ہم سب نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں افریقہ سے آئے ہوئے ہوموسپین کی اولادیں ہیں یعنی ہمارا مذہب، رنگ،ذات کچھ ہو آپس میں رشتہ دار ہیں۔ پرانی تہذیبوں کی کھدائی کے ذریعہ مختلف سامانوں کی تحقیقات کی، سمجھ کو موجود جنیٹکس کی سانس نے کس طرح آگے بڑھایا اور یہ بات اب صاف ہوگئی کہ پچھلے 65000 ہزار سال میں افریقہ سے آئے ہوموسپین نے اور اس کے بعد ایشیا کے مختلف حصوں سے لگاتار آنے والے انسانوں نے ہندوستان کو آباد کیا۔ ان باتوں کا تفصیل سے ذکر اگلی قسط میں پوگا۔