’واٹس ایپ‘ سے جاسوسی کرا رہی تھی اسرائیلی کمپنی، ’فیس بک‘ نے کرایا مقدمہ درج

واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے بتایا کہ مقدمہ تحقیقات کے بعد دائر کیا گیا ہے اور اسرائیلی کمپنی کے خلاف سائبر حملہ میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ تاہم اسرائیلی کمپنی نے الزامات کو مسترد کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اسرائیلی کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے مقبول ترین موبائل میسیجنگ ایپلی کیشن ’واٹس ایپ‘ کے ذریعے جاسوسی کی ہے، کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرا دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنی ’این ایس او گروپ‘ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے واٹس ایپ کا استعمال کر کے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جاسوسی کی ہے۔

واٹس ایپ نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ’این ایس او گروپ‘ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ استعمال کرنے والی تقریباً 1400 ڈیوائسز کو وائرس زدہ سافٹ ویئر سے نشانہ بنایا۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کمپنی کا مقصد نشانہ بننے والی ڈیوائسز میں موجود قیمتی معلومات حاصل کرنا تھا۔

واٹس ایپ کےسربراہ ول کیتھ کارٹ نے بتایا کہ مقدمہ تحقیقات کے بعد دائر کیا گیا ہے اور اسرائیلی کمپنی کے خلاف سائبر حملہ میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ تاہم اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کیتھ کارٹ نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’این ایس او گروپ کے بیانات کے مطابق وہ حکومتوں کو اپنی (تیکنیکی) خدمات مہیا کرتے ہیں لیکن رواں سال مئی میں 100 سے زیادہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو اس نے نشانہ بنایا۔ یہ بدسلوکی بند ہونی چاہیے۔‘‘

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ این ایس او کا نے ’پیگاسس‘ نامی سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس کا مقصد اینڈروئیڈ، آئی فون اور بلیک بیری یا دیگر ڈیوائسز کو ہائی جیک کر کے جاسوسی کرنا ہے۔ واٹس ایپ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کمپنی کا سافٹ ویئر اور سائبر حملہ انتہائی جدید نوعیت کا تھا، تاہم کمپنی اپنے ملوث ہونے کا ثبوت نہ چھپا سکی۔ کیتھ کارٹ نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ سائبر اٹیک سے جڑی انٹرنیٹ سروس اور اکاؤنٹس کا تعلق اسرائیلی کمپنی ’این ایس او‘ سے ہے۔

اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ کے ذریعے سائبر حملے رواں سال 29 اپریل سے 10 مئی کے درمیان کیے تھے جن سے وکلا، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاست دانوں، سفارت کاروں اور غیر ملکی سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال ڈیوائسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مئی میں واٹس ایپ نے سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنے ڈیڑھ ارب صارفین کو ایپلی کیشن اپ گریڈ کرنے کے لئے کہا تھا۔

کیتھ کارٹ نے سائبر حملے کے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا کہ صارفین کو واٹس ایپ پر ویڈیو کال موصول ہوتی تھی جو ایک نارمل فون کال نہیں ہوتی تھی۔ فون کی گھنٹی بجنے کے بعد حملہ آور وائرس زدہ کوڈ ڈیوائس میں ٹرانسفر کر دیتا تھا جس سے اس کے فون کی جاسوسی کی جا سکتی تھی۔ اس کے لیے صارف کو فون اٹھانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی۔

این ایس او گروپ پہلی دفعہ سنہ 2016 میں منظر عام پر آیا تھا جب محققین نے الزام لگایا تھا کہ کمپنی متحدہ عرب امارات کے ایک سماجی کارکن کی جاسوسی کرنے میں مدد کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا سافٹ ویئر ’پیگاسس‘ مبینہ طور پر صارف کے فون کیمرا اور مائیک کو خود بخود آن کر کے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتا ہے، اور ڈیوائس میں موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

Published: 30 Oct 2019, 1:52 PM