فیس بک نے درجنوں روسی جعلی اکاؤنٹس بند کر دیے

فیس بک انتظامیہ نے کئی روسی جعلی اکاؤنٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب اگلے برس کے امریکی صدارتی الیکشن کی انتخابی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے

فیس بک نے درجنوں روسی جعلی اکاؤنٹس بند کر دیے
فیس بک نے درجنوں روسی جعلی اکاؤنٹس بند کر دیے

ڈی. ڈبلیو

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے درجنوں جعلی روسی اکاؤنٹس بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے نیٹ ورک کو بھی ختم کرنے فیصلہ کیا ہے جو امریکی ووٹرز کے لیے سیاسی پیغامات کی ترسیل چاہتا تھا۔ اس نیٹ ورک کا تعلق ایک روسی انٹرنیٹ ایجنسی کے ساتھ بتایا گیا ہے۔

اس نیٹ ورک کے تحت ایک ایسی فرضی تنظیم قائم تھی، جس کا مقصد سابقہ امریکی صدارتی الیکشن کے دوران تنازعاتی اور گڑ بڑ کی کیفیت پیدا کرنا تھا۔ فیس بک انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس فرضی تنظیم کے پلیٹ فارم سے سن 2016 کے صدارتی الیکشن کے دوران ایک سو چھبیس ملین امریکی شہریوں تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔

گزشتہ مہینوں کے درمیان فیس بک کی انتظامیہ کو جعلی اکاؤنٹس کے تناظر میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ تنقید خاص طور پر روسی جعلی اکاؤنٹس کے تناظر میں تھی کہ جن کے ذریعے سن 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران غلط اطلاعات پھیلائی گئی تھیں۔

سن 2018 میں امریکی وزارت انصاف نے انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نےجعلی افراد کے اکاؤنٹس کا استعمال کر کے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائیں اور اس طرح امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ وزارت انصاف نے اس ایجنسی پر یہ الزام بھی لگایا کہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے امریکی معاشرے میں سیاسی اور سماجی معاملات پر عام لوگوں کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ منقسم آراء کا حامل بنانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

اس تناظر میں سوشل میڈیا کا تجزیہ کرنے والے ادارے گرافیکا نے ایک رپورٹ پیر اکیس اکتوبر کو جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کم از کم پچاس اکاؤنٹس ایسے تھے جو انسٹا گرام پر سرگرم تھے اور ان میں سے نصف سن 2016 کے امریکی انتخابات میں فلوریڈا سے فرضی اور جعلی اطلاعات پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔

امریکی حکام پہلے ہی سن 2020 کے انتخابات میں مبینہ مداخلت کا انتباہ جاری کر چکے ہیں۔ اس انتباہ کی روشنی ہی میں فیس بک نے تازہ فیصلہ کیا ہے۔ فیس بک کے مطابق اُن میسجز پر لیبل لگائے جائیں گے جو کسی ایسے ملک سے جاری کیے گئے ہوں گے جہاں میڈیا ریاست کے مکمل کنٹرول میں ہے۔