سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

فیس بک کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ، 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری

جو صارفین فیس بک سے خود بخود لاگ آؤٹ ہو گئے، ممکنہ طور پر ان کا ڈیٹا لیک ہوا ہے، جبکہ تقریاً 9 کروڑ صارفین کو اپنا اکاؤنٹ پھر سے لاگ اِن کرنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دنیا کی سب سے بڑی سماجی رابطے کی سائٹوں میں سے ایک فیس بک نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے ڈیٹا بیس میں ہیکروں نے غیر قانونی طریقہ سے رسائی حاصل کی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس ہفتہ ہیکنگ کا پتہ چلا جس میں تقریباً 5 کروڑ کھاتے متاثر ہوئے ہیں۔

فیس بک کی 14 سالہ تاریخ میں سائبر حملہ کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ ہیکرز نے اس کے ایک فیس کے ویو ایز (view as) فیچر کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹس پر حملہ کیا اور انہیں تمام فیس بک اکاؤنٹس کا کنٹرول حاصل ہوگیا۔

فیس بک کے مطابق یہ حملہ منگل 25 ستمبر کو کو کیا گیا اور پولس کو اس کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ اس حملے سے متاثر ہونے والے افراد کو جمع کو دوبارہ لاگ اِن کرنا پڑا۔

بی بی سی اردو کے مطابق، فیس بک کے شعبے پراڈکٹ منیجمنٹ کے نائب صدر گائے روزن کا کہنا ہے یہ خامی ٹھیک کر دی گئی ہے۔ اور تمام متاثرہ اکاؤنٹس کو دوبارہ سیٹ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پر چار کروڑ مزید اکاؤنٹس کو بھی ری سیٹ کیا گیا۔ فیس بک کے دو ارب سے زیادہ ماہانہ فعال صارفین ہیں۔ اسی سبب جمعہ کو اس کے حصص میں تین فیصد کی کمی آئی ہے۔

کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پانچ کروڑ صارفین دنیا کے کس حصے کے ہیں تاہم انھوں نے یورپی صارفین آئرلینڈ میں فیس بک کی یورپیئین ڈیٹا نگرانوں کو اس کی اطلاع کر دی ہے۔

متاثرین کو جمعہ کو فیس بک لاگ ان دوبارہ کرنے کا پیغام ملا۔ تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنا پاس ورڈ بدلنے کی ضرورت نہیں۔

گائے روزن کا کہنا تھا ’چونکہ ہم نے ابھی اس کی تحقیقات شروع کی ہے، ابھی یہ علم نہیں کہ صارفین کے اکاؤنٹس کا غلط استعمال ہوا یا معلومات تک ان کی رسائی حاصل ہوئی یا نہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے اور اس کا تعلق کہاں سے ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’لوگوں کی پرائیویسی اور تحفظ بہت اہم ہے، ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔‘ فیس بک کا ویو ایز کا فنکشن ایک پرائیویسی فیچر ہے جس میں لوگ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی پروفائل دیگر صارفین کو کیسے نظر آتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان کے دوست اور دوستوں کے دوست یا دیگر لوگ ان کی پروفائل سے کیا کیا سیکھ سکتے ہیں۔

’حملہ آوروں نے اس فیچر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیس بک کے ٹوکن چرانے میں کامیاب ہوگئے جس کے سبب وہ دوسروں کے فیس بک اکاؤنٹس تک رسائی مل گئی۔‘ روزن کے مطابق ’یہ فیس بک ٹوکن دراصل ڈیجیٹل کیز کے برابر ہوتے ہیں جو فیس بک کو لاگ ان رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ایپ میں بار بار پاس ورڈ ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب فیس بک قانون سازوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کے ہاتھ میں موجود صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہے۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ کمپنی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لیتی ہے تاہم اس پر برے لوگوں کی جانب سے بار بار حملے کیے جاتے ہیں۔‘

Published: 29 Sep 2018, 11:03 AM