سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

انسٹائن کی گریوٹیشن تھیوری... قسط اول

سنہ 1905 میں جرمن رسالہ میں انسٹائن کے تین تحقیقاتی مضامین شائع ہوئے۔ یہ تینوں ہی اتنے اہم تھے کہ ان سبھی پر اکیلے اکیلے نوبل انعام مل سکتا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

اس تھیوری کا ذکر بہت ہی تکلف سے ملک کے کچھ فزکس کے محکموں میں ہوتا ہے۔ شائد ریاضی کے نصابوں میں کچھ تفصیل سے ہوتا ہو۔ عام سمجھ یہ ہے کہ یہ بہت مشکل ہے اس لئے سنی سنائی باتوں سے اس کی اہمیت معلوم ہونے کے باوجود بھی اس کو نصاب میں داخل کرنے کا فیصلہ زیادہ تر جگہوں پر ٹلتا ہی رہا ہے۔

کچھ سالوں پہلے گرمیوں کی چھٹی میں جب مجھے یہ احساس ہوا کہ اب میرے پاس کوئی ایسی ضروری چیز نہیں جس کو وقت پر پورا کرنا ہو تو میں نے یہ ہمت کی کہ انسٹائن کی اس تھیوری کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ دو تین مہینوں کی محنت کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ اس تھیوری سے جڑی ہوئی ریاضی کی ترکیبیں یقیناً بہت مشکل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب کو بچپن سے صرف اقلیدس (300 قبل مسیح) کی جیومٹری پڑھائی جاتی ہے۔

اقلیدس کی جیومٹری کا سب سے مشہور مقولہ جو ہم سب کے ذہنوں پر نقش ہے کہ کسی بھی دو نقطوں کے بیچ کی سب سے کم دوری ایک سیدھی لائن ہوتی ہے۔ اس مقولہ کی سچائی پر ہم سب کا پورا بھروسہ ہے لیکن یہ صرف ہموار سطح کے لئے صحیح ہے۔ مثلاً ہم اپنی زمین (جو کہ ایک گولہ ہے)پر ہوائی جہاز کا سب سے کم دوری والا راستہ دہلی اور نیویارک کے بیچ معلوم کریں تو ایک گھماؤدار لائن ہوتا ہے۔

دہلی اور نیو یارک یا زمین پر دو شہروں کے بیچ سب سے کم دوری کو معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ چاقو سے زمین کے گولے کو بالکل آدھا اس طرح کاٹیں کہ وہ دونوں شہر اس گولے کے کنارے پر ہوں تو گولائی کا حاصل وہ دوری ہوگی۔ اسی طرح یہ مقولہ کہ ایک مثلث(ٹرائی اینگل) کے تین زاویوں (اینگلز) کا جوڑ 180 ڈگری ہوتا ہے، صرف ہموار سطح کے لئے صحیح ہے۔ گھماؤ کی فطرف کے حساب سے یہ جوڑ 180 ڈگری سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً پیالہ کی باہری سطح پر مثلث کے زاویوں کا جوڑ 180 ڈگری سے زیادہ اور پیالہ کی اندرونی سطح پر بنے مثلث کے زاویوں کا جوڑ 180 ڈگری سے کم ہوتا ہے۔

اوپر بیان کی گئی مثالوں سے یہ بات صاف ہے کہ گھماؤ دار سطحوں کو سمجھنے کے لئے اقلیدس کی جیومٹری ناقص ہے۔ انیسویں صدی کے آخری حصہ میں ایک نئی جیومٹری جو خاص طور سے گھماؤدار سطحوں کے لئے مناسب ہے اس کا ارتقا شروع ہوا۔ انسٹائن کی گریوٹیشن کی تھیوری کے لئے اس نئی جیومٹری کی بہت اہمیت تھی کیوں کہ اس نے یہ ثابت کیا کہ کائنات ایک ایسی سطح کی طرح ہے کہ جس پر اگر وزن رکھو تو گڈھا ہو جاتا ہے یعنی جہاں جہاں پر کوئی مادہ ہے جیسے زمین، سیارہ یا ستارہ ، وہاں پر کائنات میں گہرائی (گڈھا) ہوجاتی ہے۔ کائنات تالاب کے پانی کی سطح کی طرح ہے جس میں جب کسی جگہ مادہ کی تبدیلی ہوتی ہے تو لہریں پیدا ہوں گی۔ مختصراً کائنات کو سمجھنے کے لئے اقلیدس کی جیومٹری سے کام نہیں چلے گا۔

کچھ مشقت کے بعد جب تھوڑا سمجھ میں آیا تو ایک زبردست مسرت کا روحانی احساس ہوا۔ اسی تھیوری کے بارے میں روسی سائنسدان لینڈیو نے کہا کہ فزکس کی یہ سب سے زیادہ خوبصورت تھیوری ہے۔

تحقیق کے ہر میدان میں کچھ ایسے شاہکار ہیں جن کا کوئی بدل نہیں ہے۔ مثلاً موسیقار موزارٹ کی ریکوین، فلسفی اور شاعر ہومر کی مشہور نظم اوڈیسی، روم کی سسٹین چیپل کی دیواروں اور چھتوں پر بنی تصویریں ، کبیر کے دوہے، غالب کی غزلیں۔ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو یکتا ہیں اور ان کو سیکھنے یا سننے کا تجربہ بیان سے باہر ایک روحانی لذت ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ انسٹائن کی کشش کی تھیوری اسی قسم کا شاہکار ہے۔

اس تھیوری کی بنیادی سمجھ اس مضمون میں اور اس کے اگلے حصوں میں نہایت آسان زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سنہ 1905 میں جرمن رسالہ میں انسٹائن کے تین تحقیقاتی مضامین شائع ہوئے۔ یہ تینوں ہی اتنے اہم تھے کہ ان سبھی پر اکیلے اکیلے نوبل انعام مل سکتا تھا۔

پہلے مضمون نے یہ ثابت کیا کہ ایٹم کا وجود ایک حقیقت ہے اور اس میں کسی شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس دریافت نے ہمارے چاروں طرف مختلف عناصر اور ان کی خصوصیات کو سمجھنے کے لئے دروازے کھول دیئے۔

دوسرا مضمون فوٹو الیکٹرک افیکٹ سے متعلق تھا۔ جس نے صحیح معنوں میں قوانٹم مکینکس کی بنیاد ڈالی۔ جس کی مدد سے ایٹم اور اس کے اندر کی چھپی ہوئی حیرت انگیز دنیا روشن ہو گئی۔

انسٹائن کا تیسرا مضمون اسپیشل تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے نام سے مشہور ہے ۔ صرف دو نتیجوں سے اس کی اہمیت سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پہلا تو یہ کہ مادہ سے بے انتہا قوت حاصل کی جا سکتی ہے جو دنیا کے سب سے مشہور رشتہ E = mc2 میں پنہاں ہے۔

دوسری اہم دریافت یہ تھی کہ روشنی کی رفتار اس کے لئے ایک ہی ہے اور کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔ اس بات کے اتنے اہم نتائج ہیں کہ اس کی تھیوری کی وضاحت ضروری ہے۔

میکسویل نے 1860 میں 4 ایسے رشتوں کو بتایا جو چارج اور برقیات سے متعلق دسیوں سالوں سے معلوم ہوئی ہر خصوصیت کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ بجلی اور مقناطیس کی خصوصیات الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی چیز کے دو مختلف رجحان ہیں۔ ان معلومات کے نتیجہ میں یہ معلوم ہوا کہ چارج کے متحرک ہونے سے الیکٹرومیگنیٹک لہریں نکلتی ہیں ۔ یہ کئی فریکوینسی کی ہوتی ہیں اور ان تمام لہروں کی رفتار ایک ہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ریڈیو لہروں کی معمولات ہوئی جس نے مواصلات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ان لہروں کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہے اور یہ بات تجربوں نے ثابت کی ہے کہ روشنی بھی الیکٹرومیگنیٹک ویو ہے۔ ان معلومات کے بعد روشنی کی رفتار سے متعلق بہت سارے تجربات کئے گئے جن سے یہ ثابت ہوا کہ روشنی کی رفتار کسی بھی طرح سے بڑھائی یا گھٹائی نہیں جا سکتی۔ انسٹائن کی اسپیشل تھیوری کے لئے یہ اہم دریافت تھی۔

روشنی کی رفتار تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے اور اس کو سائنسدان انگریزی کے حرف ’سی‘ سے منسوب کرتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھیے کہ کسی بھی چیز کی رفتار حاصل کرنے کے لئے طے کی ہوئی دوری کو گزرے وقت سے تقسیم کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ اب اگر ہم کسی ایسے راکٹ یا جہاز میں بیٹھے ہوں جو روشنی کی آدھی رفتار سے آتی ہوئی روشنی کی کرن کی طرف چل رہا ہو تو ہماری سمجھ یہ کہتی ہے کہ ہم کو یہ لگنا چاہیے کہ روشنی کی رفتار ڈیڑھ گنا ہو گئی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے روشنی کی رفتار وہی ’سی‘ ہی رہے گی۔ اس بات کا حیرت انگیز نتیجہ یہ ہوا کہ روشنی کی طے کی گئی دوری اور گزرا وقت دونون ہی تبدیل ہوں گے تاکہ راکٹ میں بیٹھے ہوئے انسان کے لئے روشنی کی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ یعنی چلتے ہوئے راکٹ میں وقت کا وقفہ کم اور دوری بھی کم ہو جائے گی۔

وقت کی دھارا جس کو ہم سب یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہر چیز سے آزاد ایک ہی رفتار سے گزرتی جائے گی اور وہ بھی سست ہو جائے گی اگر ہم تیز رفتار سے چلیں گے۔ یہ کوئی گھڑیوں کی خرابی نہیں بلکہ ہماری عمر بھی ہلکی رفتار سے بڑھے گی اور ہم زیادہ دن تک جوان رہیں گے۔ فزکس کے طالب علموں کو یہ چیز مشہور جڑواں مسئلہ (ٹوئن پیریڈوکس ) کے نام سے معلوم ہے۔

روشنی کی رفتار میں کسی بھی تبدیلی کے نہ ہونے کے نتیجہ میں وقت کا گزرنا اور چیزوں کی لمبائی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس رفتار سے چل رہے ہیں۔ یہ تمام پیشین گوئیاں دسیوں تجربہ میں صحیح ثابت ہو چکی ہیں۔ انسٹائن کی اس تھیوری نے بہت اور چیزوں کے ساتھ وقت کی ہزاروں سال کی سمجھ کو بدل کر رکھ دیا ، انسٹائن دنیا کے عظیم ترین سائنسداں کی حیثیت سے تمام دنیا میں مشہور ہو گئے۔

ان تمام کامیابیوں کے بعد کوئی بھی انسان مطمین اور خوش ہوتا لیکن انسٹائن گریویٹیشن کے قانون اور اپنی اسپیشل تھیوری کی پیشین گوئی کے تضاد سے پریشان تھے۔

انسٹائن کے ہیرو عظیم سائنسداں نیوٹن نے 17 ویں صدی میں گریویٹیشن کا قانون معلوم کیا۔ اس قانون کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس کی مدد سے نہ صرف ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ زمین پر چیزیں کیوں اور کیسے گرتی ہیں، بلکہ سورج کے گرد سیارے کیسے گردش کتے ہیں۔ یعنی یہ قانون صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کے لئے سچ ہے۔ ڈھائی سو سال تک اس قانون کی سچائی پر کسی کی انگلی اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس قانون میں وقت کا کوئی ذکر نہیں ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ گریویٹیشنل فورس کا احساس چشم زدن میں بغیر کسی بھی وقفہ کے یعنی فوراً ہوگا۔ زمین اور تمام سیارے سورج کے گرد گریویٹیشنل فورس کی وجہ سے گھومتے ہیں۔ یعنی اگر سورج ایک دم سے غائب ہو جائے تو نیوٹن کے قانون کے مطابق سارے سیارے ہماری زمین سمیت ایک سیدھی لائن میں کائنت میں فوراً چلنے لگیں گے۔

سورج سے زمین کی دوری 9 کروڑ میل ہے اور روشنی کو زمین تک آنے میں تقریباً 8 منٹ لگے ہیں۔ انسٹائن کی تھیوری یہ ثابت کر چکی تھی کہ کوئی چیز سگنل یا اطلاع روشنی کی رفتار سے تیز نہیں چل سکتی۔ یعنی اگر سورج ابھی غائب ہو جائے تو ہم کو 8 منٹ سے پہلے احساس نہیں ہوگا۔ اس کا اہم نتیجہ یہ ہوا کہ نیوٹن کے قانون اور انسٹائن کی تھیوری میں ایک اہم تضاد ہے۔

گریویٹیشن کے قانون کو ایک نئے نظریہ سے سمجھنے کی کوشش کے نتیجہ میں تقریباً دس سال کی محنت کے بعد انسٹائن نے گریویٹیشن کی نئی تھیوری پیش کی۔ اس کا ذکر تفصیل سے اگلی قسط میں ہوگا۔

Published: 21 Oct 2018, 6:09 PM