ڈی این اے: جسم کی بناوٹ کے راز کھولنے والی چابی ... وصی حیدر

ڈی این اے ایک کافی بڑا مالیکیول ہے جس میں ہمارے جسم کی بناوٹ کے سارے راز ہیں، یہ ایک کھانا پکانے کی کتاب کی طرح ہے جس میں ہمارے جسم میں جتنے بھی پروٹین کی ضرورت ہے اس کو بنانے کی ترکیبیں ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وصی حیدر

چھٹی قسط

ڈی این اے ایک کافی بڑا مالیکیول ہے جس میں ہمارے جسم کی بناوٹ کے سارے راز ہیں، یہ ایک کھانا پکانے کی کتاب کی طرح ہے جس میں ہمارے جسم میں جتنے بھی پروٹین کی ضرورت ہے اس کو بنانے کی ترکیبیں ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے والی قسط میں ذکر ہو چکا ہے اس میں چار قسم کے اے، سی، جی، ٹی کے مالیکیول ہیں۔ ان چاروں کی ترتیب ہی اصل میں ترکیبیں ہیں اور ڈی این اے کا وہ حصہ جس میں کسی پروٹین کے بنانے کے مکمل احکام ہوتا ہے جو جین کہلاتا ہے۔ ڈی این اے ایک گھماؤ دار سیڑھی (Twisted Ladder) کی طرح مالیکیول ہے جو ڈبل ہلکس کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی یہ کچھ اس طرح کا ہے جیسے ہمارے پرانے اسکول (Minto Circle) میں پہلی منزل پر پرنسپل صاحب کے دفتر کی طرف جانے والا زینہ۔ جیسے جیسے ہم زینے پر اوپر جاتے ہیں سیڑھیاں گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھومتی جاتی ہیں، اس کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے سیدھے ہاتھ کی مٹھی بند کریں اور انگوٹھے کو سیدھا اوپر کی طرف رکھیں تو انگوٹھے کی سمت ہم کو مالیکیول کی لمبائی کی طرف کا اشارہ کرتی ہے اور بند مٹھی کی انگلیاں ڈی این اے کا گھماؤ بتاتی ہیں۔

ڈی این اے کی سیڑھی کے دونوں بازو کے ڈنڈے انہیں چار مالیکیول اے، سی، جی، ٹی کے بالترتیب ایک لمبی لائین کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک بازو کے یہ مالیکیول دوسرے بازو کے مالیکیول سے ایک کمزور ہائیڈروجن بانڈ کے ذریعہ جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے اس طرح جڑنے سے دونوں بازؤں کو جوڑنے والی سیڑھی کے بے شمار ڈنڈے بنے ہوتے ہیں۔

ڈی این اے کی سیڑھی کے ایک ڈنڈے کا اے مالیکیول ہمیشہ دوسری طرف کے ڈنڈے کے ٹی کے ساتھ اور سی مالیکیول جی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ڈی این اے میں جتنے اے مالیکیول ہوں گے اتنے ہی ٹی اور جتنے سی ہوں گے اتنے ہی جی مالیکیول ہوں گے۔

ڈی این اے کی دریافت اس کی بناوٹ کی سمجھ اور اس کے کام کرنے کے طریقے کی معلومات کا ہر طرح کی زندگی کی سائنسی سمجھ اور خاص کر صحت، بیماریوں اور ان سے مطالق علاج کی ترقی پر حیرت انگیز اثر ہوا ہے۔ ہم قدرت کے بہت سارے رازوں کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن اب بھی بہت کچھ معلوم ہونا باقی ہے۔ اس سےمطالق تحقیقات ایک دلچسپ جاسوسی ناول کی طرح ہے جس کا ذکر اس چھوٹے مضمون میں ممکن نہیں۔

1950 کے آس پاس تک بہت سارے سائنسدانوں کی تحقیقات کے نتیجہ میں جنیٹکس کے بارے میں بہت ساری کار آمد معلومات حاصل ہوچکی تھی، لیکن ڈی این اے کے بناوٹ کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتے ہی انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو ذمہ داری دی گئی کہ ڈی این اے کی بناوٹ کو تفصیل سے معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا بھر میں سائنسداں اس گھتھی کو سلجھانے میں لگے تھے اور خاص کر امریکا میں ایک مشہور کیمیاداں لِنس پاولنگ (Linus Pauling)کی قیادت میں کئی لوگ اس کوشش میں تھے کہ دنیا میں سب سے پہلے وہ اس اہم کام کو انجام دیں۔ غرضکہ ڈی این اے کی بناوٹ کی کھوج ایک بہت ہی اہم دوڑ کی شکل اختیار کرچکی تھی۔

فرانسس کرک 1916-2004 کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر اور انعام یافتہ سائنسداں تھے ان کے والد جوتا بنانے کا کاروبار کرتے تھے لیکن ان کی دلچسپی سائنس میں تھی اور ان کی شروع کی تعلیم فزکس کی رہی لیکن شروڈنگر (Schrodinger) کی کتاب (What is Life) پڑھنے کے بعد وہ جنیٹیکس اور ڈی این اے کی بناوٹ معلوم کرنے کی تحقیقاتی کام میں پورے جوش و خروش سے لگ گئے۔

1951 میں کرک کی ملاقات ایک امریکی نوجوان جیمس واٹسن (1928-2004) سے ہوئی جو کیمبرج یونیورسٹی میں اسی سلسلہ میں تحقیقاتی کام سیکھنے آئے تھے۔ دونوں ماہر اس تحقیقاتی کام میں لگے تھے تو ان کی نگاہ سے یونیورسٹی کالج لندن کی روزالینڈ فرینکلن اور مارس ولکن کی ڈی این اے مالیکیول کی ایک ایکسرے کی مدد سے کھینچی گئی تصویر (جو اب ایک مشہور تصویر نمبر 51 کہلاتی ہے) گزری۔ اس بے مثال تصویر کو دیکھ کر ان کی سمجھ میں ڈی این اے مالیکیول کی بناوٹ کا آخرکار کامیاب نسخہ سمجھ میں آگیا اور 1953 میں سائنس کے بہت مشہور رسالہ نیچر (Nature)میں انہوں نے ڈی این اے مالیکیول کی تفصیلی بناوٹ (Double Helix DNA)پر مقولہ لکھا۔ اسی رسالہ میں روزالینڈ کے بھی ڈی این اے مالیکیول کے تجرباتی کام پر دو مضامین چھپے۔

ڈی این اے مالیکیول کی بناوٹ کی معلومات 20ویں صدی کی ایک نہایت اہم دریافت تھی اور اسی وجہ سے 1962 میں ان دونوں کو نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

اگلی قسط میں ہم اس کا ذکر کریں گیں کہ اس اہم دریافت کو ہم کس طرح اپنے شجرہ کو سمجھنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔