امریکی محکمہ دفاع پر سائبر حملہ، ہزاروں ملازمین کی تفصیلات چوری

امریکی فوج کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ نا معلوم ہیکرز نے امریکی محکمہ دفاع کے سفری ریکارڈز چوری کر لیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں ورکرز کا ذاتی ڈیٹا ان ہیکرز نے چوری کیا ہے۔

ڈی. ڈبلیو

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے امریکی محکمہ دفاع میں کام کرنے والے ہزاروں ورکرز کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ امریکی حکومت رواں ماہ کے آغاز میں ہتھیاروں کے بڑے نظاموں کو ہیکرز کے حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے نا کافی اقدامات پر محکمہ دفاع کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ امریکی فوج کی طرف سے جمعہ 12 اکتوبر کو بتایا گیا کہ نامعلوم ہیکرز نے محکمہ دفاع کے سفری ریکارڈز چوری کیے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ پینٹاگون کو اس ہیکنگ کے بارے میں 4 اکتوبر کو معلوم ہوا تھا تاہم یہ ہیکنگ ممکنہ طور پر کئی ماہ پہلے ہوئی تھی۔ سائبر حملہ آور امریکی محکمہ دفاع کے قریب 30 ہزار اہلکاروں کے ذاتی اور کریڈٹ کارڈ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نقصان سے پیدا ہونے والے خطرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور متاثرہ افراد کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکنگ کا حجم اور ہیکرز کی شناخت جاننے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ملکی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکا کے اہم ہتھیاروں کے نظاموں کو ہیکرز سے محفوظ بنانے میں سست روی پر محکمہ دفاع کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

چین اور روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے تحفظات کے تناظر میں امریکی فوج کے لیے سائبر سیکورٹی ایک اہم ترین ترجیح بن چکی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق روزانہ ہزاروں مرتبہ اس کے کمپیوٹر نظام پر حملوں کی کوشش کی جاتی ہے۔

Published: 13 Oct 2018, 9:39 AM