کورونا وائرس کا قہر، ٹوئٹر نے اپنے 5000 ملازمین کو گھر سے کام کرنے کو کہا

کووڈ-19 کے نئے مقامات پر پھیلنے کی خبروں کے درمیان ٹوئٹر نے اپنے 5 ہزار ملازمین کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا ہے۔ کمپنی نے ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا میں اپنے ملازمین کو یہ حکم دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کئی نئے مقامات پر کووِڈ-19 یعنی کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس وائرس کے پھیلنے کی خبروں کے درمیان ٹوئٹر نے دنیا بھر میں اپنے تقریباً 5 ہزار ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمپنی نے ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا میں اپنے ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم اپنے ملازمین پر غیر ضروری سفر کرنے پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا ہے۔

ٹوئٹر نے کہا ہے کہ امریکہ میں کمپنی کے دفاتر ایسے ملازمین کے لیے کھلے رہیں گے جنھیں دفتر جانا ضروری لگ رہا ہے۔ کمپنی نے منگل کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم دنیا بھر کے اپنے ایسے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کے لیے ترغیب دے رہے ہیں، جو گھر سے کام کر سکتے ہیں۔ ہمارا ہدف ہمارے اور ہمارے آس پاس کی دنیا میں کووِڈ-19 کے پھیلنے کے امکان کم سے کم کرنا ہے۔‘‘

غور طلب ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا موبائل شو ’موبائل ورلڈ کانگریس 2020‘ کو کورونا وائرس کے خوف سے کینسل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کورونا وائرس کی وجہ سے کئی ٹیکنیکل تقاریب کو یا تو کینسل کیا جا رہا ہے یا اسے ملتوی کیا جا رہا ہے۔

فیس بک نے اپنا سالانہ ڈیولپر کانفرنس ایف بی بھی کورونا وائرس کی وجہ سے کینسل کر دیا ہے۔ ایپل نے چین کے سبھی ایپل اسٹور کو کچھ وقت کے لیے بند کر دیا ہے۔ گوگل نے بھی چین میں اپنے سبھی دفاتر کو کورونا وائرس کی وجہ سے بند کر دیا ہے۔