بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے والدین پریشان، 89 فیصد ہندوستانی مائیں تشویش میں مبتلا، رپورٹ میں انکشاف

رپورٹ کے مطابق ماؤں کے سب سے بڑے خدشات میں سے پرائیویسی (81 فیصد)، نامناسب مواد (72 فیصد)، نوعمروں کو متاثر کرنے والے (45 فیصد) اور ڈیپ فیک (26 فیصد) ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بچوں کا اسکرین ٹائم علامتی تصویر/ آئی اے این ایس</p></div>

بچوں کا اسکرین ٹائم علامتی تصویر/ آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

والدین بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے کافی پریشان رہتے ہیں اور ایک بار عادی ہونے کے بعد بچوں کو اس طرح کے آلات سے دور کر پانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان کی بیشتر مائیں بچوں کی اس عادت سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’ٹیک آرک‘ کی مدر ڈے کے موقع پر یہ تشویشناک رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا ہے کہ 89 فیصد ہندوستانی مائیں بچوں کے اسکرین ٹائم کی وجہ سے حد درجہ فکر مند ہیں۔ اتوار (12 مئی، مدر ڈے) کو جاری اس رپورٹ میں ایسی 600 کام کرنے والی ماؤں کے درمیان کیے گئے سروے کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے جن کا کم از کم ایک بچہ تیسری سے چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے۔

سروے کرنے والی کمپنی ’ٹیک آرک‘ نے ان خواتین سے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں ان کے خدشات، ان کو درپیش چیلنجس، ان کی دلچسپیوں اور ان کی ترجیحات کے بارے میں سوال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماؤں کا خیال ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافہ ان کے بچوں کی تعلیم کو متاثر کرتا ہے اور ان کی ذہنی و جسمانی نشو نما نیز سماجی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


رپورٹ کے مطابق ماؤں کے سب سے بڑے خدشات میں سے پرائیویسی (81 فیصد)، نامناسب مواد (72 فیصد)، نوعمروں کو متاثر کرنے والے (45 فیصد) اور ڈیپ فیک (26 فیصد) ہیں۔ ان ماؤں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈیپ فیک اور زین اے آئی والدین کے لیے ایک بڑی تشویش بن جائے گی۔ ڈیوائسیز کی بات کریں تو مستقبل کے لیے سب سے بڑی تشویش و ی آر ہیڈ سیٹ ہے، خاص طور پر ایپل ورژن پرو کی لانچنگ کے بعد۔

سروے کے دوران حالانکہ ماؤں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پانچ سال قبل کے بالمقابل آج کی ڈیجیٹل دنیا بچوں کے لیے زیادہ مفید اور ان کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد مائیں اپنے بچوں کے لیے جتنی رقم خرچ کرتی ہیں اس کا 51 سے 85 فیصد حصہ آن لائن شاپنگ پر خرچ کرتی ہیں۔ جبکہ 20 فیصد ڈیجیٹل خدمات حاصل کرنے والی خواتین کے معاملے میں یہ تعداد 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے سب سے زیادہ خریداری ایمیزون پر، سویگی پر کھانوں کے آرڈر دینے اور ہاٹ اسٹار پر تفریحی پیکجز خریدنے میں کرتی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔