چندریان-2 مشن کو پیر کو چھوڑنے کے لئے تیاریاں مکمل

اسرو کے اہم ترین اور باوقارمشن چندریان 2 کو 22 جولائی کو 2 بجکر 43 منٹ پر آندھرا پردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیشن دھون خلائی مرکز سے چھوڑا جائے گا جس کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی (اسرو) کے اہم ترین اور باوقارمشن چندریان 2 کو 22 جولائی کو 2 بجکر 43 منٹ پر آندھرا پردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیشن دھون خلائی مرکز سے چھوڑا جائے گا جس کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

اسرو کے ذرائع نے کہا کہ لانچ اتھاریزیشن بورڈ اور مشن کی تیاری کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ قبل ازیں اس کو 15جولائی کو چھوڑا جانے والا تھا تاہم اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ 18جولائی کو اسرو نے اعلان کیا کہ ماہرین کی کمیٹی نے اس کی تکنیکی خرابی کا پتہ چلا لیا ہے اور اس کو درست کر لیا گیا ہے۔ اس کو چھوڑے جانے کے 16 منٹ بعد اس کے تین حصے علیحدہ ہوجائیں گے۔

ہندوستان کے پہلے چاند مشن 1 کو پی ایس ایل وی کا استعمال کرتے ہوئے 22 اکتوبر 2018 کو چھوڑا گیا تھا جس نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کا پتہ چلایا تھا۔ اگرچہ چاند کے جنوبی قطبی علاقہ تک پہنچنے میں کئی مشکلات قبل ازیں کی کئی کوششوں میں ہوئی ہیں تاہم چندریان 2 پہلا مشن ہوگا جو چاند کی اس سطح تک رسائی حاصل کرے گا جہاں اب تک کسی بھی انسان کی رسائی نہیں ہو پائی ہے۔

س خلائی گاڑی کو اس طرح ڈیزائن کیاگیا ہے کہ وہ 17دنوں تک زمین کے چکر لگائے گی۔ وہ زمین کی کشش ثقل کا استعمال کرے گی۔ چاند کی سطح پر پہنچنے کے بعد یہ کئی طرح کی پیچیدہ سرگرمیاں انجام دے گا۔ چاند کی سطح کی تصاویر اس کی لینڈنگ سے پہلے لی جائیں گی تاکہ محفوظ اور خطرناک زونس کا پتہ چلایا جاسکے۔

ایک ماہ طویل سفر کے بعد 6 ستمبر کو یہ چاند کی جنوبی قطب پر اترے گا۔ یہ مشن تقریباً ایک سال تک جاری رہے گا۔ چندریان 2 اسرو کے لئے ایک باوقار پروجیکٹ ہے۔ اس سٹلائٹ کو چھوڑنے سے ہمارا ٹیکنالوجی سسٹم مستحکم ہوگا۔ اس مشن کے مکمل فائدے حاصل کرنے کے لئے دو ماہ درکار ہوں گے۔ اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوب قطب کے علاقہ کی تفصیلات معلوم ہوسکیں گی کیونکہ اس علاقہ کے بارے میں کسی نے بھی دریافت نہیں کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ اور چاند کی سطح پر اترنا مزید چیلنج سے بھرا کام ہے۔

چندریان 2 کی ٹیم میں 30 فیصد ارکان خواتین

چندریان 2 کے تقریباً 30 فیصد ارکان بشمول پروجیکٹ ڈائرکٹر اور مشن ڈائرکٹر خواتین ہیں۔ اسرو کے ذرائع کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ایم ونیتا الکٹرانکس سسٹم انجینئر ہیں۔ ونیتا جو ہندوستان کے ریموٹ سنسنگ سٹلائیٹ کے لئے ڈاٹا ہینڈلنگ سسٹمس کے لئے ذمہ دار ہیں، نے ابتدا میں اس تاریخی ذمہ داری کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تاہم بعد ازاں وہ اس کے لئے تیار ہوگئیں۔ مشن ڈائرکٹر ریتو کری دھل ہیں جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسس بنگالورو سے ایرواسپیس انجینئرنگ میں ماسٹرس کی ڈگری رکھتی ہیں۔