چندریان-2 کی لانچنگ اب 22 جولائی کو ہوگی، اسرو کا اعلان

پہلی مرتبہ کوئی انسانی ساختہ شئے کولار کے علاقہ میں سافٹ لینڈنگ کرنے والی ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح، پانی کی دستیابی اور اس کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات بتانے والا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: تکنیکی خرابی کے سبب چندریان 2 مشن کو ملتوی کرنے کے دو دن بعد ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی(اسرو) نے اعلان کیا ہے کہ چندریان 2 مشن کو 22 جولائی پیر کی دوپہر 2.43 منٹ پر آندھراپردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑا جائے گا۔

اس خصوص میں خلائی ایجنسی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ”چندریان 2 کو 15 جولائی کو تکنیکی خرابی کے سبب ملتوی کر دیا گیا تھا اب اسے ہندوستانی معیار وقت کے مطابق پیر کی دوپہر2.43 منٹ پر چھوڑا جائے گا“۔ 15 جولائی کو اسرو کے اس باوقار پروجیکٹ کو چاند کی سطح پر بھیجا جانے والا تھا تاہم اس کو چھوڑنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی تھی۔

اگرچہ کہ اسرو نے اس تکنیکی خرابی کے تعلق سے کوئی خاص وجہ نہیں بیان کی تاہم سمجھاجاتا ہے کہ اس راکٹ کو چھوڑنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل سائکروجینک انجن جہاں پر لکویڈ ہائیڈروجن فیول ہوتا ہے کے اپراسٹیج میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔ اسرو کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کے بڑے مشن کے لئے کافی تیاریاں کرنی پڑتی ہیں، یہ عمل کافی پیچیدہ ہوتا ہے۔ ہر مرحلہ کی توثیق ہونی ہوتی ہے اور بڑے پیمانہ پر ڈاٹا کا تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ مشن کے التوا سے اسرو کو دھچکا لگا تھا کیونکہ اس چاند کے مشن کے لئے اسرو نے کئی برسوں محنت کی ہے۔ جاریہ سال اپریل میں اسرائیل کے لونار کرافٹ نے چاند پر کریش لینڈنگ کی تھی۔ اس مشن کی ناکامی پر اسرو نے چندریان مشن کو اپریل سے جولائی تک ملتوی کر دیا تھا۔ اب جبکہ اس کی لانچنگ میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کو دور کرنے کے بعد اس کو چھوڑنے کی نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملک کو اب چاندمشن کی نئی تاریخ کا انتظار کرنا نہیں پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق سائیکرو جینک فیول کو لوڈ کرنے کے دوران تکنیکی خرابی محسوس کی گئی تھی۔ اس 3.85 ٹن وزنی راکٹ کو اسرو نے فیاٹ بوائے کا نام دیا تھا جسے باہو بلی بھی کہا جارہا ہے۔ وہ چندریان 2 کو زمین کے اطراف اونچے مدار میں داخل کرے گا۔ بعد میں اس مدار کو اسرو کے سائنسداں ریموٹ کے ذریعہ اپنی کوششوں سے اور اوپر اٹھائیں گے۔ آخر کار اسے زمین کے مدار سے نکالا جائے گا اور چاند کے دائرے اثر تک پہنچایا جائے گا۔ پہلی مرتبہ کوئی انسانی ساختہ شئے کولار کے علاقہ میں سافٹ لینڈنگ کرنے والی ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح، پانی کی دستیابی اور اس کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات بتانے والا ہے۔ اس مشن کی اندازاً لاگت 978 کروڑ روپئے رہی ہے۔ ہندوستان اس مشن کی تکمیل پر چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔ چندریان مشن کو چھوڑنے کے بعد اس کو چاند کے جنوب قطب پر پہنچنے کے لئے دو ماہ درکار ہونے والے ہیں۔

چندریان 2 اسرو کے لئے ایک باوقار پروجیکٹ ہے۔ اس سٹلائٹ کو چھوڑنے سے ہمارا ٹیکنالوجی سسٹم مستحکم ہوگا۔ اس مشن کے مکمل فائدے حاصل کرنے کے لئے دو ماہ درکار ہوں گے۔ اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوب قطب کے علاقہ کی تفصیلات معلوم ہوسکیں گی کیونکہ اس علاقہ کے بارے میں کسی نے بھی دریافت نہیں کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ اسرو کے لئے اہم ترین اور باوقار پروجیکٹ ہے۔اس مشن کوچاند کی سطح پر پہلا قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ کی یوم پیدائش 5 اگست سے پہلے تکنیکی خرابی کو دور کرتے ہوئے چھوڑا جائے گا۔