’گگن یان مشن‘ کے لیے پوری طرح تیار ہے ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘، سیفٹی سرٹیفکیٹ ہوا حاصل

اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سی ای 20 کرایوجینک انجن اب گگن یان مشن کے لیے بالکل تیار ہے، سخت تجربہ سے انجن کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔

اسرو، تصویر آئی اے این ایس
اسرو، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

’گگن یان مشن‘ لانچ کرنے کے لیے 2025 کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ہندوستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے اِسرو کے سائنسداں خوب محنت کر رہے ہیں۔ اس مشن کے تعلق سے ایک بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘ کو سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ کئی سخت ٹیسٹنگ کے بعد سی ای 20 کرایوجینک انجن کو یہ سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے۔

سی ای 20 کرایوجینک انجن کو سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہونا ’گگن یان مشن‘ کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مشن اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اگر ہندوستان نے کامیابی حاصل کی تو امریکہ، چین اور روس کے بعد ہندوستان انسانی خلائی مشن کا کامیاب تجربہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔


بہرحال، اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’سی ای 20 کرایوجینک انجن اب گگن یان مشن کے لیے بالکل تیار ہے۔ سخت ٹیسٹنگ سے انجن کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ پہلے انسانی پرواز ایل وی ایم 3 جی 1 کے لیے تیار کیے گئے سی ای 20 کرایوجینک انجن کو کئی ٹیسٹنگ سے ہو کر گزرنا پڑا، جس کے بعد اسے سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ سی ای 20 انجن کا گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ کا آخری دور 13 فروری کو مکمل ہوا تھا۔ اس کے تحت اس کرایوجینک انجن کی انسانی ریٹنگ عمل کو کامیاب مانا گیا ہے۔

اِسرو نے اس تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ پتہ کیا جا سکے کہ انجن ٹھیک سے کام کرے گا یا نہیں، انجن حفاظت کی شکل میں کیسا ہے اور یہ پوری طرح تیار ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ سخت سیکورٹی اور اعتماد کے پوائنٹس کو یہ پورا کرتا ہے یا نہیں۔


واضح رہے کہ گگن یان مشن کے تحت اسرو انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کے تحت تین لوگوں کی ٹیم کو خلا میں زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا اور پھر انھیں بہ حفاظت زمین پر واپس اتارا جائے گا۔ 2025 میں اس مشن کو لانچ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پہلے یہ مشن 2022 میں ہی لانچ ہونا تھا، لیکن کورونا وبا اور مشن کی پیچیدگیوں کے سبب اس میں تاخیر ہو گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */