بی ایس این ایل کی بدحالی: ’5-جی‘ کے زمانے میں ’4-جی‘ سے بھی محروم!

مواصلات کے وزیر مملکت سنجے دھوترے نے بدھ کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 31 مئی کو ملک میں بی ایس این ایل کے 154299 ٹاور کام کررہے تھے۔ ان میں 5921 ٹاور 4 جی سروس فراہم کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پرائیویٹ کمپنیاں جہاں 5 جی سروس شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں وہیں سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بی ایس این ایل کے 4 فیصد سے بھی کم موبائل ٹاور 4 جی سروس فراہم کرا رہے ہیں جس کا سیدھا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں بی ایس این ایل تاریخ ہو جائے گی، اس طرح ایک اور سرکاری کمپنی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مواصلات کے وزیر مملکت سنجے دھوترے نے بدھ کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 31 مئی کو ملک میں بی ایس این ایل کے 154299 ٹاور کام کررہے تھے۔ ان میں 5921 ٹاور 4 جی سروس فراہم کر رہے ہیں۔ اس طرح فعال ٹاورز کی کل تعداد میں محض 3.84 فیصد ہی 4 جی سروس دے رہے ہیں۔

دھوترے نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت بی ایس این ایل اور اس یونٹ کے ایم ٹی این ایل کو بچانے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ اس کے نتائج جلد ہی نظر آئیں گے۔ ایوان میں دیئے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ راجستھان، مغربی بنگال، شمال مشرق -2، جھارکھنڈ، کولکاتا ٹی ڈی اور انڈمان نکوبار سرکلز میں بی ایس این ایل کا ایک بھی 4 جی ٹاور نہیں ہے۔ ان میں راجستھان کے علاوہ تمام سرکل میں موبائل توسیع منصوبے کے آٹھویں مرحلے کے تحت 4 جی ٹاور لگانے کا منصوبہ ہے۔ سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے کل فعال موبائل ٹاورز میں 87629 یعنی 56.79 فیصد ٹوجی والے ہیں۔ دیگر 60749 یعنی 39.37 فیصد ٹاور 3 جی والے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بی ایس این ایل بے ضابطگیوں کی وجہ سے بند ہو سکتی ہے۔

ویسے بی ایس این ایل میں بے ضابطگی کے ایک بڑے معاملہ کا ’قومی آواز‘ پہلے ہی پردہ فاش کر چکا ہے اور اس معاملہ میں کم و بیش 20 ہزار کروڑ کی بے ضابطگی سامنے آئی ہے جو کہ محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈاٹ) کی ملکیتوں یعنی عمارتوں اور زمینوں کو بی ایس این ایل کو منتقل کرنے سے متعلق ہے۔ یہ ادارہ یوں تو انٹر گورنمنٹل یعنی بین سرکاری ہے، لیکن قانونی پیچیدگیوں کے سبب خمیازہ آخر میں ان بی ایس این ایل صارفین کو ہی بھگتنا پڑتا ہے جو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے نیٹورک میں بھی اسی طرح کی سہولتیں ملیں گی جو پرائیویٹ آپریٹرس اپنے صارفین کو دے رہے ہیں۔ دراصل پورے ملک میں ڈاٹ کی ایسی تقریباً 7 ہزار ملکیتیں ہیں جن کی قیمت دو سے تین لاکھ کروڑ روپے ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاٹ اور بی ایس این ایل کے سرکردہ افسران نے ’آپسی سانٹھ گانٹھ‘ کر اس گھوٹالے کو انجام دیا ہے۔

اراضی سے متعلق قوانین کے مطابق ڈاٹ کی ملکیتوں کو بی ایس این ایل کو ٹرانسفر کرنے پر مختلف ریاستوں میں اسٹامپ ڈیوٹی دینا لازمی ہے۔ یہ اسٹامپ ڈیوٹی ڈاٹ کو ادا کرنی ہوتی ہے۔ لیکن داخل خارج (میوٹیشن) کا عمل پورا نہ کرتے ہوئے ایک بھی پیسے کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ یہ کوئی لاپروائی سے ہوئی غلطی نہیں ہے بلکہ کابینہ نے 2000ء میں دیئے حکم میں اور صدر جمہوریہ دفتر کی طرف سے 2011 میں دی گئی ہدایات میں ایسا کرنے کو کہا تھا، پھر بھی ایسا نہیں کیا گیا۔

ظاہر ہے کہ اعلیٰ افسران بھی اس قانونی عمل کو پوری طرح جانتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ جب یہ بات کھلی تو ہماچل پردیش کے ڈی جی پی کے حکم پر ڈاٹ کے محکمہ ٹیلی مواصلات (مالیات) کے رکن انورادھا مترا اور نائب ڈی جی (پراپرٹی منیجمنٹ) سوربھ گیواری کے ساتھ بی ایس این ایل کے اعلیٰ سطحی افسران کے کردار کی جانچ فوراً شروع کر دی گئی۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 17 Jul 2019, 5:10 PM