آرٹیمس 2: انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری

امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین راکٹ دس روزہ آرٹیمس 2 مشن کے دوران خلابازوں کو چاند کے گرد گردش کروائے گا۔ مقصد مستقبل میں چاند پر اترنے، حفاظت کی جانچ اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا طاقتور ترین راکٹ فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر پہنچ چکا ہے، جو پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد چاند کی جانب پہلے انسانی مشن کی تیاریوں کا اہم سنگ میل ہے۔ آرٹیمس 2 نامی یہ دس روزہ مشن چار خلابازوں کو زمین کے مدار سے نکال کر چاند کے گرد چکر لگوائے گا تاکہ مستقبل میں وہاں اترنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کی منتقلی کے بعد اب ایندھن اور کاؤنٹ ڈاؤن کی مشقیں کی جائیں گی، جبکہ اس کی روانگی فروری 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس مہم میں استعمال ہونے والا ’اورین‘ خلائی جہاز یورپی ساختہ ماڈیول پر انحصار کرتا ہے جو عملے کے لیے بجلی، آکسیجن اور پانی فراہم کرے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن میں خلابازوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، اسی لیے لانچ سے قبل تمام تکنیکی پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

اپولو 17 مشن کے 50 سال سے زائد عرصے بعد، 1972 کے بعد پہلی بار انسانیت ایک نئے قمری دور کا آغاز کر رہی ہے۔ ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن پر مشتمل عملہ چاند کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔ لیکن اس نئے آرٹیمس 2 مشن کی تفصیلات میں کئی ایسے حیران کن حقائق پوشیدہ ہیں جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں۔ ذیل میں اس تاریخی کوشش کے سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک خلائی جہاز کا زمین پر سست سفر

یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کو لانچ پیڈ تک صرف 6.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ اسے ایک دیوہیکل مشین، جسے کرالر-ٹرانسپورٹر کہا جاتا ہے، نے صرف 1.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خلا کے سفر کو شروع کرنے کے لیے کس قدر بڑی اور وزنی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آسمانی کامیابیوں سے پہلے زمینی چیلنجز پر قابو پانا کتنا ضروری ہے۔


چاند پر اُترنا نہیں، چکر لگانا مقصد

لوگوں کے گمان کے برعکس، 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن چاند پر نہیں اترے گا۔ اس کا اصل مقصد چاند کے گرد سفر کرنا ہے تاکہ مستقبل کے آرٹیمس 3 مشن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ چاند کے گرد پرواز کے دوران، عملے کو چاند کے مشاہدے کے لیے تین گھنٹے وقف کیے جائیں گے، جس میں وہ تصاویر لیں گے اور اس کی ارضیات کا مطالعہ کریں گے تاکہ چاند کے جنوبی قطب پر مستقبل میں اترنے کی تیاری کی جا سکے۔ ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے چاند پر نہیں اترے گا۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ 2028 اس مشن کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ تاریخ ہو سکتی ہے، جو خلائی تحقیق میں درپیش پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

زمین کا ایک نیا نظارہ

چاند کے گرد چکر لگانے کے اس محتاط منصوبے سے بھی پہلے، مشن کا ایک اور حیران کن مرحلہ ہے جو ہمارے اپنے سیارے یعنی زمین پر مرکوز ہے۔ مشن کے پہلے دو دنوں کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چاند کی طرف روانہ ہونے سے پہلے، عملہ زمین کے گرد ایک بلند مدار میں وقت گزارے گا، جو تقریباً 64 ہزار 4سو کلومیٹر (40ہزار میل) کی دوری تک پہنچے گا۔ یہ فاصلہ چاند تک کے راستے کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اس مرحلے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "ہماری کھڑکی سے پوری زمین ایک واحد کرے کی صورت میں دکھائی دے گی، ایک ایسا نظارہ جو ہم میں سے کسی نے اس زاویے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔" یہ مرحلہ نہ صرف تکنیکی جانچ کا موقع ہے بلکہ عملے کے لیے انسانیت کے مشترکہ گھر کو ایک ایسے تناظر میں دیکھنے کا ایک موقع بھی ہے جو زمین پر ہمارے وجود کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی مشن کا یورپی ماڈیول

اس تاریخی مشن پر روانہ ہونے والے ’اورین‘ خلائی جہاز کا ایک اہم جزو، یورپی سروس ماڈیول، ناسا نے نہیں بنایا ہے۔ یہ ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں ایئربس نے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ ماڈیول انتہائی اہم کام انجام دیتا ہے: چاند تک پہنچنے کے لیے پروپلشن فراہم کرنا، تمام برقی توانائی پیدا کرنا، اور عملے کو زندہ رکھنے کے لیے ہوا (آکسیجن اور نائٹروجن) اور پانی فراہم کرنا۔ ایئربس کی انجینئر سیان کلیور کے مطابق، "یورپی سروس ماڈیول بہت اہم ہے - بنیادی طور پر ہم اس کے بغیر چاند تک نہیں پہنچ سکتے۔"

خلا بازوں کا پرسکون رویہ

کئی سال کی تاخیر کے بعد اس مشن کو شروع کرنے کے لیے ناسا پر بے پناہ دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے برعکس، خلا بازوں کا رویہ انتہائی پرسکون ہے۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "لانچ کے دن خلا باز سب سے پرسکون لوگ ہوتے ہیں۔ اور میرے خیال میں... ایسا اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم اس مشن کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں، جس کی ہم نے تربیت حاصل کی ہے۔" اس تیاری اور حفاظت کے عزم کو آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے چیئر جان ہنی کٹ کے الفاظ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ ان کے مطابق، "ہم تب ہی پرواز کریں گے جب ہم تیار ہوں گے... عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوگی۔"


آرٹیمس 2 مشن صرف ایک راکٹ کا لانچ نہیں ہے؛ یہ محتاط منصوبہ بندی، بین الاقوامی تعاون، اور گہرے انسانی نقطہ نظر کی کہانی ہے۔ جیسا کہ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا، یہ مشن مزید لوگوں کو چاند کو غور سے دیکھنے پر مجبور کرے گا۔ جب انسانیت ایک بار پھر ستاروں کی طرف اپنی نظریں اٹھا رہی ہے، تو یہ نیا چاند کا سفر ہمیں کائنات اور خود اپنے بارے میں کیا سکھائے گا... یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔