زمین کی طرف تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں چار ’ایسٹیروئیڈ‘، ناسا نے کیا آگاہ

ناسا کا کہنا ہے کہ سب سے قریب سے گزرنے والا ایسٹیروئیڈ زمین سے 713000 کلو میٹر دور سے نکلنے کا اندازہ ہے۔ خلائی سائنس کی دنیا میں یہ دوری بہت زیادہ نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ناسا نے جانکاری دی ہے کہ چار نئے ایسٹیروئیڈ (چھوٹا تارہ) بہت تیزی کے ساتھ ہماری زمین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایسٹیروئیڈ 21 اور 22 مارچ کے دوران زمین (ارض) کے مدار کے بے حد قریب سے گزریں گے۔ ناسا نے یہ بھی بتایا ہے کہ سب سے قریب سے گزرنے والا ایسٹیروئیڈ 713000 کلو میٹر دور سے نکلنے کا اندازہ ہے۔ خلائی سائنس کی دنیا میں یہ دوری بہت زیادہ نہیں ہے۔ حالانکہ ناسا نے امید ظاہر کی ہے کہ سبھی ایسٹیروئیڈ زمین کے بے حد قریب سے ضرور گزریں گے لیکن اس سے ہماری دنیا کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

سائنسدانوں کے مطابق چاروں ایسٹیروئیڈ میں سے ایک زمین سے 3.05 ملین کلو میٹر کی دوری سے گزرے گا اور یہ چاروں میں سے سب سے زیادہ دوری والا ہوگا۔ ان ایسٹیروئیڈ کو سائنسدانوں نے 020 ایف کے، 2020 ایف ایس، 2020 ڈی پی 4 اور 2020 ایف ایف 1 نام دیا ہے۔ 2020 ایف کے سب سے چھوٹا ایسٹیروئیڈ ہے جس کا ڈایامیٹر صرف 43 فیٹ ہے۔ یہ 37 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2020 ایف ایس کا ڈایامیٹر 56 فیٹ ہے جب کہ یہ 15 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ہندوستانی وقت کے مطابق 21 مارچ کی رات 8 بج کر 9 منٹ پر زمین کے قریب سے گزرے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ اتوار کو سب سے بڑا ایسٹیروئیڈ 2020 ڈی پی 4 زمین کے قریب پہنچے گا۔ یہ چاروں ایسٹیروئیڈ میں سب سے بڑا ہے۔ اس کا ڈایامیٹر 180 فیٹ ہے جب کہ رفتار 47 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کے علاوہ 2020 ایف ایف1 کا ڈایامیٹر 48 فیٹ ہے۔ 23 مارچ کو 2020 ڈی پی4 ہندوستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 4 منٹ پر زمین کے قریب سے گزرے گا۔ اس کے علاوہ 2020 ایف ایف 1 علی الصبح 3 بج کر 39 منٹ پر زمین کے قریب سے نکلے گا۔ فی الحال اس سے کسی طرح کے نقصان کی بات نہیں کہی گئی ہے، لیکن ناسا اس پورے عمل پر گہری نظر بنائے ہوئے ہے۔