ضعیف عورتوں کا شیلٹر توڑنے پر سرکاری افسر نے دہلی اقلیتی کمیشن سے مانگی معافی

ایم سی ڈی کے بوراری سرکل کے ذمہ داران نے شیلٹر توڑے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کمیشن سے آکر معافی مانگی اور مستقبل میں مذکورہ شیلٹر کو نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کیا۔

علامتی تصویر (سوشل میڈیا)
علامتی تصویر (سوشل میڈیا)

پریس ریلیز

نئی دہلی: بوراری علاقے میں شانتی بھون نامی بوڑھی اور ضعیف عورتوں کے شیلٹر کے کچھ حصے کو شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ نے بغیر کسی نوٹس کے 2 اگست 2018 کو توڑ دیا تھا اور موقع پر موجود نہ صرف بے سہارا عورتوں بلکہ ان کے بلانے پر آنے والی دہلی اقلیتی کمیشن کی ممبر محترمہ انستاسیہ گل کے ساتھ بھی بدتمیزی کی تھی۔ اس سلسلے میں ایم سی ڈی کے بوراری سرکل کے ذمہ داران نے کیس کی سماعت کے دوران کمیشن سے آکر معافی مانگی اور مستقبل میں مذکورہ شیلٹر کو نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ضعیف عورتوں کا یہ شیلٹر لال ڈورا علاقے میں واقع ہے اور انتہائی قدیم ہی نہیں ہے بلکہ اس میں پولس والے بھی بے سہارا عورتوں کو داخل کرتے رہتے ہیں۔ بہر حال، دہلی اقلیتی کمیشن سے مانگی گئی معافی کو کافی نہ جانتے ہوئے کمیشن نے اس افسر کو بھی طلب کیا جو موقع پر موجود تھا اور جس کے حکم پر شیلٹر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ مذکورہ افسر نے بھی کمیشن میں آکر تحریری طور پر معافی مانگی۔ اس کو قبول کرتے ہوئے کمیشن نے مذکورہ شکایت کی فائل بند کردی۔