ویڈیو: ’روٹی کپڑے مکان کی خاطر، روٹی کپڑا مکان چھوڑ آئے‘

سید ندیم ماہر اور ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنا کلام پیش کیا ہے جس سے موجود سامعین کافی محظوظ ہوئے

قومی آوازبیورو

18 مارچ کو ’قومی آواز‘ کے دفتر میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ڈاکٹر تقی عابدی اور سید ندیم ماہر کی تشریف آوری ہوئی اور انھوں نے ’پردیس میں اپنا دیس‘ عنوان پر مبنی ایک انتہائی اہم مذاکرے میں شرکت کی۔ اس مذاکرے میں کناڈا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر تقی عابدی اورتقریباً دو دہائی سے دوحہ، قطر میں مقیم سید ندیم ماہر نے ملک کے مختلف علاقوں میں ہندوستانی تہذیب و ادب کی موجودگی اوران کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ مذاکرے کی نظامت محترم آصف اعظمی نے کی جب کہ مہمانان کا استقبال ’نیشنل ہیرالڈ گروپ‘ کے چیف ایڈیٹر ظفر آغا نے کیا۔ پروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کی ذمہ داری ادارہ کے پالیٹیکل ایڈیٹر سید خرم رضا نے نبھائی۔ قابل ذکر ہے کہ اس مذاکرے میں کئی طرح کی ایسی باتیں سامنے آئیں جو نہ صرف دلچسپ تھیں بلکہ حیران کرنے والی بھی تھیں۔ ’قومی آواز‘ کے قارئین کو ان باتوں سے روشناس کرانے کے مقصد سے اس مذاکرے کا ویڈیو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا جس کا دو حصہ پہلے پیش کیا جا چکا ہے اور یہاں حاضر تیسرا ویڈیو۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ تیسرے ویڈیو میں سید ندیم ماہر اور ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنا کلام پیش کیا ہے جس سے موجود سامعین کافی محظوظ ہوئے۔ ان دونوں ادباء کے ذریعہ کلام پیش کیے جانے کے بعد دہلی سے تعلق رکھنے والے اعظم عباس شکیل، ’قومی آواز‘ میں ڈیسک ایڈیٹر عمران خان اور ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے منسلک صحافی آشوتوش شرما نے بھی اپنے ادبی ذوق کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی عمدہ کلام پیش کیا۔ ان تینوں حضرات کے کلام ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

اعظم عباس شکیل، دہلی

آنکھ میں چبھتا ہے اک منظر نکلتا کیوں نہیں

دل میں جو پیوست ہے خنجر نکلتا کیوں نہیں

نیزہ و تلوار کی یلغار ہے میدان میں

خیمۂ ایثار سے پھر سر نکلتا کیوں نہیں

دم اگر گھُٹنے لگا ہے آئینوں کی قید میں

لے کے ہاتھوں میں کوئی پتھر نکلتا کیوں نہیں

جھوٹ کے آگے زبانِ خلق کیوں خاموش ہے

دل میں جو بیٹھا ہوا ہے ڈر نکلتا کیوں نہیں

انقلابِ وقت کی آہٹ تو آتی ہے مگر

بھیڑ سے پرچم لیے رہبر نکلتا کیوں نہیں

یوں تو محفل میں سبھی سیراب ہیں ساقی مگر

میری ہی خاطر پیالہ بھر نکلتا کیوں نہیں

وہم، شک، افسردگی، دہشت، اداسی، بے حسی

ذہن سے افریت کا پیکر نکلتا کیوں نہیں

ناتراشیدہ ہوں پتھر، قیمتی ہوتے ہوئے

میرے اندر ہے جو اک آزر نکلتا کیوں نہیں

یہ تری آوارگی وحشت بڑھا دے گی شکیلؔ

رات آدھی کٹ گئی، اب گھر نکلتا کیوں نہیں

عمران خان، قومی آواز (دہلی)

چناؤ آیا بہار آئی

ہمارے لیڈر دئے دکھائی

نئے ہیں جملے، نئی دہائی

بساط پھر سے نئی بچھائی

دلوں کی کالک پہ پردہ ڈالے

سفید اجلے لباس والے

وہ آئے ہیں پھر تمہیں بنانے

تمہارے ووٹوں کو مفت کھانے

جو جیت کے کر رہے بہانہ

انہیں اب ہرگز نہ آزمانا

تماہارا لوٹیں گے دانا دانا

تم ان کی چالوں میں اب نہ آنا

سڑک کا کھویا شباب مانگو

گھروں میں بجلی اور آب مانگو

یہی ہے موقع جواب مانگو

دکھوں کا اپنے حساب مانگو

آشوتوش شرما، نیشنل ہیرالڈ (دہلی)

جگ چاہے رین بسیرا ہے، بار بار میں آؤں گا

پیار کے نغمے لکھوں گا، میں پیار کے نغمے گاؤں گا

ساری رات میں راہ میں اس کی ایک دیے سا جلتا رہوں

وہ بادِ صبا جب آئے گی، میں بھی دھواں ہو جاؤں گا

---

ہر ایک پل ہم پہ مہرباں ہو جیسے

یہ وقت کوئی میزباں ہو جیسے

تم چلو ساتھ تو یوں لگتا ہے

پاؤں کے نیچے آسماں ہو جیسے

جانا چاہیں بھی تو اب جائیں کہاں

پاؤں سے لپٹی کہکشاں ہو جیسے

اس طرح خوشبو سے کرتا ہوں باتیں

کوئی تیری ہی ہم زباں ہو جیسے

لمحہ لمحہ دھواں ہو جیسے

بے مہر وقت بدگماں ہو جیسے

دل شکستہ یوں ڈوب رہا ہے

افسردگی اندھا کنواں ہو جیسے