تین طلاق بل: حکومت کا مسلم خواتین کے تحفظ کا دعوی مضحکہ خیز، اسلم باشاہ

ہندوستان کے عوام نریندر مودی کو سمجھائیں گے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہے بلکہ ہندوستانیوں کا ہے اور تمام ہندوستانی مل کر مذہبی اختلافات سے پرے ایک سیکولر بھارت کی تعمیر کریں گے۔

پریس ریلیز

چنئی: تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے ریاستی چیئرمین و آل انڈیا کانگریس کمیٹی رکن ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں مودی حکومت پر حملہ بولا اور بل کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل منظور کئے جانے کے تعلق سے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلم باشاہ نے کہا کہ 56 ماہ کی نریندرمودی حکومت تمام شعبوں میں نا کام ہوکر عوام کی ناراضگی کا شکار ہے۔ ایسی صورتحال میں بی جے پی نے آر ایس ایس کی شاباشی حاصل کرنے کے لئے طلاق ثلاثہ بل کو غیر ضروری عجلت میں منظور کیا ہے۔ طلاق ثلاثہ بل منظور کرنے والی نریندر مودی حکومت کو شہری حقوق کے نفسیات تک کی پہچان نہیں ہے کہ کسی کو مار کو رلایا تو جاسکتا ہے لیکن ہنسایا نہیں جاسکتا۔

ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے مزید کہا ہے کہ ماضی میں راجا رام موہن رائے، ایس ایم نرسمہا، پی وینکٹ راما شاستری، دیش مک اگرکار،جیوتی با پھولے، ساوتری بائی، ڈاکٹر امبیڈکر، پریار راما سوامی، ڈاکٹر متو لکشمی ریڈی، سوامی راما لنگر، بسویشورا نارائن گرو، جیسے اصلاح کاروں نے تنگ مذہبی نظریات کے خلاف جب تحریک چھیڑی تھی تو انہوں نے اسلامی مذہبی قوانین کو کھبی بھی تنقید نہیں کیا بلکہ انہوں نے عصر حاضر کے شہری حقوق قوانین کے مقابلے میں اسلامی قوانین کو قابل قبول قرار دیا۔

اسلام کی ترقی پسند قوانین پر دخل اندازی کرکے نریندر مودی حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک رجعت پسند، مذہبی بنیاد پرست ہیں۔

جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں مندر کے اندر ایک معصوم بچی کو سات دن تک بند کرکے اس کی عصمت ریزی کرکے اس کا قتل کرنے والے، گائے کا گوشت رکھنے کے جھوٹے الزام میں معصوموں کا قتل کرنے والے، مردہ گائے کی چمڑی نکالنے کے جرم میں دلتوں کا قتل کرنے والے، فرضی انکاؤنٹرکے ذریعے بے گناہوں کا قتل کرنے والے اور ملک بھر میں اقلیتوں کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہی نریندر مودی حکومت کا مسلم خواتین کا تحفظ کرنے کی بات کرنا مضحکہ خیز ہے۔

تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اختتام میں کہا ہے کہ پارٹی میں اپنا اثر و رسوخ کھوچکے نریندر مودی، عوام کی نفرت کے شکار بنے نریندرمودی اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے اس طرح کے مسودہ منظور کرکے آر ایس ایس جیسی بنیاد پرستوں کی نظر میں اچھا بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ دن دور نہیں ہے کہ ہندوستا ن کے عوام نریندر مودی کو سمجھائیں گے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ملک نہیں ہے بلکہ ہندوستانیوں کا ملک ہے اور تمام سیکولر ہندوستانی مل کر ذات، پات، مذہبی اختلافات سے پرے ایک سیکولربھارت کی تعمیر کریں گے۔