دنیائے ادب میں پنچ تنتر کی معنویت صدیوں سے برقرار

تاجکستان میں خصوصی لکچر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ ’’پنچ تنتر میں عقل اور حکمت کی باتیں بھری پڑی ہیں اور اس میں انسان کی فکری اور ذہنی تاریخ محفوظ ہو گئی ہے۔‘‘

ڈاکٹر مشتاق صدف کا خصوصی لکچر، تصویر پریس ریلیز
ڈاکٹر مشتاق صدف کا خصوصی لکچر، تصویر پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

دوشنبہ، تاجکستان: تاجک اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف لینگوویجز، دوشنبہ کے زیر اہتمام "دنیاۓ ادب میں پنچ تنتر کی معنویت و افادیت" کے موضوع پر ایک خصوصی لکچر کا انعقاد کیا گیا، جسے تاجک نیشنل یونیورستٹی کے وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیاۓ ادب میں پنچ تنتر کے گراں قدر رول اور اس کی معنویت وافادیت صدیوں سے برقرار ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ادب میں دوسری کوئی ایسی کتاب نہیں جو مدتوں سے اس قدر مقبول اور محبوب رہی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اس کتاب کی ہردل عزیزی ہر دور میں قائم ودائم رہے گی۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے بچے، جوان اور بوڑھے سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔

ڈاکٹرصدف نے کہا کہ پنچ تنتر میں عقل اور حکمت کی باتیں بھری پڑی ہیں اور اس میں انسان کی فکری اور ذہنی تاریخ محفوظ ہو گئی ہے۔ نیز ہندوستان کے دانشوروں کے تجربات کا اسے نچوڑ کہا جاۓ تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کتاب حکمرانوں کی توجہ کا مرکز بھی بنتی رہی ہے۔ پہلوی، فارسی، عربی، شامی وغیرہ سے لیکر کم وبیش دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ مشتاق صدف نے مزید کہا کہ پنچ تنتر کا اسلوب اپنی برجستگی کے سبب ہمارے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ یہ کتاب دراصل انسان کو نیکی اور بدی میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس کے بیشتر کردار جانور ہیں جو انسان کی طرح حرکتیں کرتے ہیں۔ ان میں حسد، نفرت، محبت، دوستی، لالچ، رشک، چالاکی، فریب غرض کہ آدمی کا ہر نفسیاتی پہلو موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی سے سبق حاصل کرنے کے لیے پنچ تنتر سے بہتر کوئی تصنیف نہیں۔ اس اعتبار سے اس کی کہانیوں کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ کہانیاں دلچسپ اس لیے بھی ہیں کہ ہر کہانی کے اندر دوسری کہانی اوردوسری کہانی میں تیسری کہانی شامل ہے۔ یہ انداز الف لیلی میں بھی ملتا ہے۔

اس تقریب کی صدارت انسٹی ٹیوٹ میں شعبہ ہندی کے چیرمین ڈاکٹر سیدزادہ اویس الدین نے کی۔ انہوں نے پروفیسر مشتاق صدف کی اس بے حد معلوموتی خصوصی لکچر کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالی۔ اس محفل میں تاجک اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف لینگوویجز بنام سوتم الغزادہ کے اساتذہ ڈاکٹر بابا رجب جمعہ، ڈاکٹراحدوف بہمنیار، رخسانہ وغیرہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ جبکہ ہندی، عربی، فارسی اور چینی زبانوں کے طلبا و طالبات نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ اس لکچر کا تاجکی زبان میں ترجمہ ڈاکٹر اہتم شاہ یونسی نے کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔