دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی نے حج سے متعلق تمام ذمہ داریاں طے شدہ ضابطہ کے مطابق انجام دیں: کوثر جہاں

کوثر جہاں نے کہا کہ میرا نظریہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے کسی بھی سیاسی اور گروہی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ہر موقع پر کمیٹی کے تمام ممبران کو ساتھ لے کر کام کیا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں</p></div>

دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں

user

پریس ریلیز

نئی دہلی: دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں نے اپنے پریس بیانیہ میں کہا ہے کہ میں نے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد مقدس فریضہ حج کی ادائیگی کے سلسلے میں انجام دی جانے والی تمام تر ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ بروقت اور منظور شدہ ضابطے کے مطابق انجام دیا ہے۔ اگرچہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی ذمہ داری ریاستی سطح تک ہی محدود ہے اس کے باوجود میں نے حجاج کرام کے مسائل کو بروقت حل کرانے کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہوئے سعودی عربیہ میں انڈین حج مشن کے حکام سے رابطہ میں رہی۔ جہاں تک ریاستی سطح پر حج سے متعلق امور کی انجام دہی کا سوال ہے، اس کام میں دہلی سرکار، مرکزی حکومت، ایم سی ڈی اور دہلی ایئرپورٹ کی مختلف ایجنسیوں کے بھرپور تعاون سے ہی حج مشن کی تکمیل ممکن ہوتی ہے اور یہ تمام تر کام متعلقہ سرکاری محکموں کی پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی انجام دیئے جاتے ہیں۔

اسی ضمن میں گزشتہ 25 جولائی 2023 کو حج کمیٹی کی جانب سے دہلی کے ایرو سٹی میں واقع لیمن ٹری ہوٹل کے کانفرنس ہال میں حج اختتامی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں دہلی سرکار اور دیگر تمام متعلقہ محکموں، ایجنسیوں کو جنہوں نے حج آپریشن میں اپنا تعاون پیش کیا تھا ان کو توصیفی اسناد اوریادگار نشان پیش کرکے حوصلہ افزائی کی گئی۔ واضح ہوکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے منعقد کئے جانے والے تمام ترپروگرام حج کمیٹی کے انتظامی کنٹرول محکمے کی پیشگی منظوری کے بعد کیے جاتے ہیں اور حج 2023 کے لیے مذکورہ اختتامی تقریب بھی حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد ہی منعقد کیا گیا۔حج کمیٹی کی جانب سے یہ تقریب پہلے بھی منعقد کی جاتی رہی ہے۔ جس کا انعقاد ہمیشہ دہلی ایئر پورٹ پر ہوتا رہا ہے۔ اس سال بھی اختتامی تقریب کے انعقاد کے لیے پہلے ایئر پورٹ اتھارٹی سے تقریب کے لیے جگہ فراہم کرنے کی تحریری گذارش کی گئی لیکن ایئر پورٹ انتظامیہ کے تحریری جواب کے مطابق ایئر پورٹ پر کوئی مناسب جگہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ تقریب ایئر پورٹ کی انتظامی ایجنسی کی معاونت سے ایئرپورٹ کے قریب ایرو سٹی میں منعقد کی گئی۔ روایتی طور پر ایئر پورٹ یا اس کے قریب ترین مقام پر اختتامی تقریب کے انعقاد کا مقصدحج امور کی انجام دہی میں مصروف ایئرپورٹ سے متعلق محکموں، ایجنسیوں کی تقریب میں شرکت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔


اس ضمن میں میرا نظریہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے کسی بھی سیاسی اور گروہی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ہر موقع پر کمیٹی کے تمام ممبران کو ساتھ لے کر کام کیا جائے۔ اور میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد بھی اپنے اس ادارہ کا بار بار اظہار کرتی رہی ہوں۔ چنانچہ نئی حج کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے اب تک کمیٹی کی منعقد ہونے والی تمام میٹنگ میں ضابطہ کے مطابق تمام ممبران کو تحریری طور پر اطلاع فراہم کی جاتی رہی یہاں تک کہ حج کمیٹی میں حاجیوں کے ٹریننگ پروگرام نیز میڈیکل کیمپ اور دیگر تمام مواقع پر ممبران کو اطلاع فراہم کی گئی اورپہلے سے سرکاری منظوری حاصل شدہ مذکورہ اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے بھی ممبران کو ان کے خصوصی واٹس ایپ گروپ اوربذریعہ ڈاک بھی گذارش کی گئی۔لیکن کمیٹی ممبر جناب محمد سعد اورمحترمہ نازیہ دانش ہر میٹنگ میں شامل ہوتی رہیں جبکہ جناب حاجی محمد یونس اورجناب عبدالرحمن صاحبان آج تک نہ تو کسی میٹنگ میں شریک ہوئے اور نہ ہی کسی پروگرام میں یہاں تک کہ دہلی کے مشہور تاریخی رام لیلا میدان اور مسجد درگاہ سید فیض الٰہی میں لگنے والے حج کیمپ میں آکرحاجیوں کی خیروعافیت بھی دریافت نہیں کی۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ میرے چیئرپرسن کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کے بعد محکمہ ڈیوسب کی جانب سے حج کمیٹی کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا اور ان حضرات کے بطور ایم ایل اے عوامی نمائندہ ہونے اور حج کمیٹی کے ممبر ہونے کے باوجود انہوں نے ڈیوسب کے نوٹس پر نہ تو کوئی احتجاج درج کرایا اور نہ ہی حج کمیٹی کی کوئی مدد کی۔ مجھے اس سلسلہ میں ذاتی طور پر اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے حج کمیٹی کو اس مصیبت سے باہر نکالنے کے لیے کوشش کرنی پڑی۔ مزید یہ کہ رام لیلا گراؤنڈ میں حج کیمپ کے لیے ایم سی ڈی اور دیگر محکموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کی بروقت فراہمی میں بھی اس سال چند در چند دشواریاں پیش آئیں جس کا حل برسر اقتدار پارٹی کے ایم ایل اے ممبران حج کی مداخلت سے ہو سکتا تھا مگر ان کے حج کمیٹی اور حج امور سے سراسر بے توجہی اورباوجود اطلاع فراہم کرنے حج کمیٹی کی میٹنگ اور معاملات میں عدم دلچسپی اور عدم حاضری کی بنا پر مجھے تمام معاملات میں تن تنہا تگ و دو کرنی پڑی۔ دوسری جانب سچائی یہ ہے کہ ممبران کی جانب سے حج کمیٹی کے دفتر میں جب کبھی کوئی حوالے آئے تو اس کا پورا خیال اور احترام کیا گیا۔ مجھے پوری امید ہے کہ آئندہ تمام تر سیاسی اور گروہی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ہمیں اپنے ممبران سے بھرپور تعاون حاصل ہو سکے گا تاکہ ہم مل جل کر آئندہ حج کو مزید بہتر اور مثالی بنا سکیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔