اہانت رسولؐ سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے طلب کی ایکشن رپورٹ

سپریم کورٹ نے اہانت رسولؐ سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت و دیگر سے کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار کو اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی عرضی ((1265/2021 پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی سرکار و دیگر کو نوٹس جاری کیا ہے کہ ایسی انتہائی افسوسناک وشرمناک حرکتوں کے خلاف اب تک کیا اقدامات کیے گیے، وہ اس سلسلے میں عدالت میں جلد جواب داخل کریں۔ سپریم کورٹ میں آج نفرتی واقعات، جہانگیر پوری انہدامی کارروائی اور میڈیا و اوٹی ٹی کے ذریعہ نفرت پھیلانے جیسی عرضیوں پر سماعت ہوئی۔

اس کے علاوہ خاص طور سے اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عرضی جسٹس اے ایم کھانویلکر او رجسٹس اے ایس اوکا کی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھی۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد عدالت میں پیش ہوئے۔ جمعیۃ نے اپنی عرضی میں اہانت رسول ﷺ کے پے درپے ہو رہے واقعات کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت عظمی سے خصوصی ہدایت نامہ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ پرست عناصر اور گروہوں نے مسلمانوں کے عقائد اور اس کی عظیم شخصیت، سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دشنام طرازی کا نشانہ بنا رکھا ہے، یہ واقعات ملک کے آئین اور اس میں موجود سیکولر کردار پر بھی حملہ ہے، نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہے، لیکن حرفِ افسوس یہ ہے کہ موجودہ سرکاروں نے ان واقعات کے سلسلے میں انتہائی متعصبانہ کردار ادا کیا ہے اور اس کے مرتکبین سے نرمی برتی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے عدالت سے رجوع سے قبل کافی انتظار کیا کہ سرکاریں ازخود کارروائی کریں گی اور مجرموں کو درس عبر ت دیں گی، لیکن اسٹیٹ مشنری پوری طرح سے آئینی ذمہ داری سے غافل اور ناکام ہے۔ یہ مشنریاں جمعیۃ علماء کے خطوط اور وفود کے ذریعہ متوجہ کرائے جانے کے باوجود بھی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ ہم نے پولیس تھانے جاکر شکایت درج کرائی، لیکن بعض معاملوں میں ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی، ایسے حالات میں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ معزز عدالت ایسے مجرموں کے خلاف وقت مقررہ میں کارروائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کرے۔


جمعیۃ علماء ہند ان حقائق کا برملا اظہار کرتی ہے کہ نفرتی واقعات بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی وجہ سے ملک کی تکثیریت اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کی وطنی خصوصیت کو شدید خطرہ لاحق ہے جس کی حفاظت سبھی ہندستانیوں بالخصوص سرکاری مشنریوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں حال میں وقوع پذیر کل ایسے پندرہ مواقع کی نشاندہی بھی کی ہے جب اہانت رسول کے و اقعات پیش آئے، ان میں خاص طور سے تری پورہ میں ایک جلوس کے ذریعہ شان محمدؒ میں دشنام طرازی بہت ہی دل آزاری کی باعث بنی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس عرضی میں حکومت ہند، تری پورہ حکومت اور دہلی پولس کو جواب دہ بنایا ہے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کا رد عمل

اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی سماج اپنے مذہبی پیشواؤں کی توہین کرکے مہذب نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ساری دنیا کے انسانوں کے لیے سراپا رحمت ہے، اس لیے ایسے اعمال کے مرتکبین کو عبرت ناک سزا دی جائے تا کہ وہ کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کے پیشوا کی توہین کی ہمت نہ جٹا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔