فاطمہ اکیڈمی میں حجاب کی عظمت و افادیت پر سمینار کا انعقاد

مقررین نے بتایا کہ عورت کا غیر مرد، نامحرم اور اجنبی سے خود کو چھپانا حجاب یا پردہ کہلاتا ہے۔ اسلام اولین مذہب ہے جس نے حجاب کا حکم دیا اور مسلمان اولین قوم ہے جس نے حجاب یا پردہ کو رائج کیا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: فصیل بند شہر کے علاقہ لال کنواں واقع فاطمہ اکیڈمی میں 30 ستمبر کو حجاب کے موضوع پر ایک سمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ تقریب کا مقصد آج کی نوجوان نسل کو حجاب کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت تبسم ریاض نے کی۔ بعد ازاں مقررین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کس طرح حجاب عورت کے وقار اور عظمت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں عریانی، فحاشی اور بے حیائی کا رجحان ہے، ہر ناجائز چیز کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں ایک مسئلہ عورت کے حجاب کا بھی ہے۔

فاطمہ اکیڈمی میں حجاب کی عظمت و افادیت پر سمینار کا انعقاد

مقررین نے بتایا کہ عورت کا غیر مرد، نامحرم اور اجنبی سے خود کو چھپانا حجاب یا پردہ کہلاتا ہے۔ اسلام اولین مذہب ہے جس نے حجاب کا حکم دیا اور مسلمان اولین قوم ہے جس نے حجاب یا پردہ کو رائج کیا۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس نے زندگی کے ہر گوشہ کے بارے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کے حقوق مقرر کئے ہیں۔ اسلام سے پہلے عورتوں کے حقوق پامال ہوتے تھے اور وہ معاشرے میں کمتر تصور کی جاتی تھیں۔ عورت کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا تھا، یہاں تک کہ اسے پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا۔ اسلام کی روشنی نے عورت پر پڑی ظلم و ستم کی تاریکیوں کو عزت و عظمت کے نور سے منور کیا۔ عورت کو اس کے حقوق دلائے اور اس کی عصمت کی حفاظت کی۔


تقریب میں فاطمہ اکیڈمی کے طلبا، ان کے والدین و دیگر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عالیمہ بشریٰ سعید، جامعہ نورالسلام نے بتایا کہ 2 حجری میں جب پردہ کا حکم نازل ہوا تو مسجد میں موجود عورتوں نے اپنے گھروں سے چادریں منگائی اور خود کو ان سے ڈھانپ لیا۔ صفیہ خاتون نے قرآن و حدیث کی روشنی میں پردہ کے حکم کے بارے میں آگاہ کیا اور ان آیات کا تذکرہ کیا جن میں اللہ نے پردہ کا حکم صادر فرمایا ہے۔ صبیحہ جمال صالحاتی نے کہا کہ تقویٰ کا حجاب سب سے بہتر حجاب ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہم نے نئے معاشرے میں حجاب کی اصل پہچان کو کھو دیا ہے جو صرف جہالت کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس لئے ہمیں قرآن وحدیث کو سمجھ کر اصل حجاب کے مقصد کو پہچاننا چاہیے۔ علاوہ ازیں ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد چاہے بیٹا ہو یا بیٹی اسے سمجھائیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور محرم اور نامحرم کے فرق کو سمجھیں۔

فاطمہ اکیڈمی میں حجاب کی عظمت و افادیت پر سمینار کا انعقاد

اس موقع پر فاطمہ اکیڈمی کے صدر اعجاز نور و سکریٹری محمد جاوید نے فاطمہ اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ کثیر تعداد میں طلبا قرآن، کمپیوٹر، سلائی، مہندی اور آرٹ و کرافٹس کی کلاسوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سیمینار کے موقع پر سلائی، مہندی اور آرٹ و کرافٹس کے طلبا نے اسٹالوں پر اپنے ہنر کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس موقع پر طالبات نے مختلف انداز کے حجاب کی نمائش کی اور کئی مقابلوں میں حصہ لیا۔ جس میں نسیم بیگم، نیر صدیقی اور طلعت پروین نے جج کے فرائض انجام دئیے اور سو سے زائد طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے نقد انعام دئیے گئے۔


اس تقریب میں نظامت کے فرائض تبسم ریاض، مہک عزیز، نورین اور ثناء یونس نے ادا کئے۔ شرکاء میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ اس کے علاوہ مختلف سماجی و مذہبی تنظیمات کے عہدیداران و اراکین بھی کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔