رابندر ناتھ ٹیگور نے ہم آہنگی کا ایک واضح ہندوستانی نظریہ پیش کیا: ڈاکٹر مشتاق صدف

پدم شری پروفیسر رجبوف حبیب اللہ نے صدارتی تقریر میں کہا کہ ٹیگور انسان دوست، محب وطن ادیب و شاعر، فکشن نگار، ڈراما نگار، فلسفی، موسیقار، مصور اور ماہر تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے قومی ہیرو بھی تھے۔

ٹیگور کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر لکچر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق صدف
ٹیگور کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر لکچر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق صدف
user

پریس ریلیز

دوشنبہ، تاجکستان: انڈیا اسٹڈی سینٹر، تاجک نیشنل یونیورسٹی، دوشنبہ کے زیر اہتمام آج رابندر ناتھ ٹیگور کے یوم پیدائش پر ایک خصوصی لکچر کاانعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت پدم شری پروفیسر رجبوف حبیب اللہ نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹیگور ایک عظیم انسان دوست، محب وطن ادیب و شاعر، فکشن نگار، ڈراما نگار، فلسفی، موسیقار، مصور اور ماہر تعلیم کے ساتھ ہندوستان کے قومی ہیرو بھی تھے۔ انہوں نے زبان و ادب کی جو گراں قدر خدمات انجام دیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اس موقع پر تاجک نیشنل یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے ’ٹیگور: زندگی اور ان کی قومی و ادبی خدمات‘ کے موضوع پر خصوصی لکچر پیش کیا۔ انھوں نے خطاب کے دوران کہا کہ ٹیگور کی قومی اور شعری و ادبی خدمات کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔ آج بھی ان کی تحریروں کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیگور نے زندگی بھر اپنی تحریروں سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہم آہنگی کا ایک واضح ہندوستانی نظریہ پیش کیا۔ نیز انہوں نے جدو جہد آزادی کے دوران ہندوستانی عوام کی ایک کثیر تعداد کو متاثر کیا۔


ہروفیسرڈاکٹر صدف نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستان کے ایک ایسے عظیم دانشور اور فلسفی ادیب ہیں جنہوں نے اپنی پر اثر تخلیقات سے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلے مٹائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیگور نے پوری دنیا میں ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی اقدار کو پھیلایا۔ وہ دراصل ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے سفیر تھے۔

تقریب کے آغاز میں شعبہ اردو-ہندی کے چیئرمین پروفیسر قربانوف حیدر نے اساتذہ اور طلبا و طالبات کو ٹیگور جینتی پر دلی مبارکباد پیش کی اور پروفیسر مشتاق صدف کے بے حد معلوموتی خصوصی لکچر کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر علی خان، محترمہ صباحت اور محترمہ استد بی بی نے بھی موجود تھیں۔ تقریب کے دوران ایک طالبہ عبادت زادہ شفاعت نے ٹیگور کی نظم ’کرما‘ کا تاجکی ترجمہ پیش کیا اور ٹیگور پر بنی ایک ڈاکیومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔


دوسری جانب انڈیا اسٹڈی سینٹر، تاجک اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف لینگوویجز بنام سوتم الغزادہ، دوشنبہ تاجکستان کے زیر اہتمام بھی دوپہر میں ٹیگور کے یوم پیدائش پرایک لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں پر موجود ہندی، عربی، فارسی اور چینی زبانوں کے طلبا و طالبات کے درمیان بھی مشتاق صدف نے ٹیگور کی زندگی اور ان کی علمی و ادبی خدمات پر خصوصی لکچر پیش کیا۔ اس کا تاجکی زبان میں ترجمہ ڈاکٹر اہتم شاہ یونسی نے کیا۔ آخر میں چینی زبان کی معلمہ موزونہ خلیلووا نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔