رابعہ گرلز پبلک اسکول میں اعزازی جلسہ کا انعقاد

دسویں اور بارہویں جماعت میں صد فیصد حاضری والی طالبات کو سرٹیفکیٹ اور ٹرافی پیش کیا گیا۔ دسویں و بارہویں جماعت کا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ بالترتیب محترمہ ریتو ملہوترا اور محترمہ نائمہ خان کو دیا گیا۔

پریس ریلیز

29 ستمبر2018 بروزہفتہ،رابعہ گرلز پبلک اسکول میں دسویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کے اعزازی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز اسکول کی روایت کے مطابق تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا ساتھ ہی ان آیات کا انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔

اس موقع پر محترمہ حنا عثمان صاحبہ ، سول سروسز، نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ہمدرد پبلک اسکول کی منیجر، محترمہ ذکیہ صدیقی ، مہمان ذی وقار کے طور پر موجود تھیں۔اسکول پرنسپل ڈاکٹر ناہید عثمانی نے تمام مہمانان کا استقبال کیا اورمحترمہ فرح جمال نے گلہائے عقیدت پیش کیا۔ نظامت کے فرائض محترمہ رابعہ کریم اور جویریہ کرمانی نے ادا کیے۔

دسویں جماعت کی ٹاپر عائشہ شمیم اوربارہویں جماعت کی تینوں ٹاپرز کشش قریشی۔ ہیومینیٹیز، سبحانہ کشش۔سائنس اور رشدہ عظیم ۔ ہیومینیٹیزکے ساتھ ان کے والدین کو اعزاز سے نوازا گیا۔ 90 فیصد اور اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والی طالبات کو بھی ایوارڈ دیے گئے۔مختلف مضامین کی ٹاپرس کو بھی انعامات سے سرفراز کیا گیا اور وہ طالبات جنھوں نے پانچوں مضامین میں 75 فیصد اور اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں ان کوبھی انعامات تقسیم کیے گئے۔

دسویں اور بارہویں جماعت میں صد فیصد حاضری والی طالبات کو سرٹیفکیٹ اور ٹرافی بطور انعام پیش کیا گیا۔ اس سال کا دسویں جماعت کا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ محترمہ ریتو ملہوترا اور بارہویں جماعت کا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ محترمہ نائمہ خان کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ دسویں جماعت کی طالبہ عائشہ شمیم کے سوشل سائنس میں 100/100 نمبر لانے پر سوشل سائنس ٹیچرس اور بارہویں جماعت میں Informatic Practices میں دانیہ مسعود کے 100/100 نمبر لانے پر I.P ٹیچر کو اعزاز سے نوازا گیا۔

بارہویں جماعت کی ان اساتذہ کو بھی ایوارڈ دیا گیا جن کا رزلٹ پچھلے سال کے مقابلے اس سال زیادہ اچھا رہا ۔ محترمہ زیبا ایاز اور محترم عادل خان نے دسویں اور بارہویں جماعت کا رزلٹPower Point Presentation کے ذریعے دکھا یا۔

مہمان ِ خصوصی ، محترمہ حنا عثمان اور مہمانِ ذی وقار ، محترمہ ذکیہ صدیقی نے طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور اس بات پر زور دیا کہ علم جہاں سے ملے وہاں سے حاصل کرنا چاہیے اور اب ہمیں ڈاکٹر ، انجینیر کے ساتھ سول سروسز کی طرف کی توجہ کرنی چاہیے۔ محترمہ رابعہ کریم نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔