پروفیسر صبر جمشید ہویوالا کے انتقال پر پدم شری محمد شرف عالم کا اظہارِ غم

پروفیسر ہویوالا کے علمی و ادبی کارناموں میں فارسی، گجراتی ڈکشنری کے علاوہ متعدد گراں قدر تحقیقی مقالے اور جدید فارسی داستانہائے کوتاہ کے تراجم شامل ہیں۔

پروفیسر صبر جسمشید ہویوالا
پروفیسر صبر جسمشید ہویوالا
user

پریس ریلیز

پدم شری پروفیسر (کیپٹن) ڈاکٹر محمد شرف عالم، سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ نے اطلاع دی ہے کہ برصغیر میں مطالعات ادب و ثقافت ایرانی کی معروف استاد پروفیسر صبر جمشید ہویوالا کا گزشتہ 6 اگست 2020 کو ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بمبئی میں ہی 21 فروری 1941 کو ان کی ولادت ہوئی تھی۔ بمبئی میں تکمیل تعلیم کے بعد حکومت ایران کے وظیفے پر تہران یونیورسٹی گئیں اور پروفیسر محمد علی اسلامی ندوشن کی نگرانی میں ہندوستانی پارسیوں کے ایرانی روابط پر اپنا تحقیقی مقالہ تیار کرکے Ph.D. کی ڈگری 1965ءمیں حاصل کی۔

ہندوستان کا ممتاز و منفرد اور مایہ ناز تعلیمی و تدریسی ادارہ جواہر لال یونیورسٹی 1969ءمیں قائم ہوا۔ اس یونیورسٹی کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کا ڈھانچہ عام یونیورسٹیز کے روایتی انداز سے مختلف ہے۔ مختلف فیکلٹیز کی جگہ یہاں اسکولز ہوتے ہیں جو یکساں، فنون پر محتوی ہوتے اور ان کے ماتحت مختلف مراکز یعنی شعبے ہوتے ہیں۔ ابتدائے تاسیس میں ہی اسکول آف لینگویجیز اینڈ کلچر اسٹڈیز کے تحت آفرو ایشین لینگویجز کا سنٹر قائم ہوا جہاں یکم جولائی1971ءکو ڈاکٹر ہویوالا اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئیں۔ بعدہ پروفیسر، چیئرپرسن اور ڈین کی کرسیوں کو زینت بخشی۔ گویا پروفیسر ہویوالا مذکورہ سنٹر کی اولین معماروں میں تھیں۔

ان کا میدان تخصص جدید فارسی ادبیات اور انڈو ایرانی ادبی روابط تھا۔ وہ اس میدان میں استناد کا درجہ رکھتی تھیں۔ ان کے علمی و ادبی کارناموں میں فارسی، گجراتی، ڈکشنری کے علاوہ متعدد گراں قدر تحقیقی مقالے اور جدید فارسی داستنہائے کوتاہ کے تراجم شامل ہیں۔

فارسی زبان و ادبیات میں علمی شغف اور مہارت نامہ کے اعتراف میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ان کو 2003ءمیں سرٹیفکیٹ آف آنر(سند اعزاز) سے نوازا تھاجس کا اعلان 15اگست 2002کو ہوا تھا۔ آداب و ضوابط میں سخت گیری و زود رنجی طبع کے باوصف پروفیسر ھویوالاتاحد کمال رحم دل، انسان دوست اور بشرنواز تھیں۔ پروفیسر موصوف مسلکاً زرتشتی عقیدہ کی پیرو تھیں۔ واضح رہے کہ زرتشتی مذہب کے بنیادی نکات ہیں: افکار نیک، گفتار نیک اور کردار نیک۔ ان ہی تین بنیادی اصولوں پر زرتشتی مذہب کی عمارت قائم ہے۔ دست بہ دعا ہوں کہ اللہ ان کی روح کو سکون عطا فرمائیں۔آمین۔

next