صرف کانگریس ہی لڑ سکتی ہے ملک و آئین بچانے کی جنگ: عمران پرتاپ گڑھی

مہاراشٹر پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کی جائزہ میٹنگ تلک بھون میں منقعد ہوئی، جس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات اور ڈیجیٹل ممبر رجسٹریشن کا جائزہ لیا گیا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

ممبئی: مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ ملک انتہائی خراب صورتحال سے دو چار ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کو جو آئین دیا ہے وہ خطرے میں ہے، جمہوریت خطرے میں ہے۔ ملک کو فرقہ پرست طاقتوں سے بچانا ہمارے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ یہ کوئی آسان جنگ نہیں ہے لیکن اس کو شکست دینے کی طاقت صرف کانگریس پارٹی کے پاس ہے، اس لئے کانگریس کے پرچم تلے اکٹھے ہو جائیں۔

یہ اپیل آج یہاں آل انڈیا کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے کی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کی جائزہ میٹنگ تلک بھون میں منقعد ہوئی، جس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات اور ڈیجیٹل ممبر رجسٹریشن کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے مزید کہا کہ بی جے پی سماج میں زہر بونے کا کام کر رہی ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے کہ کرناٹک کا ایک بی جے پی وزیر ترنگا کو بھگوا سے تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے اور ملک میں اس کے خلاف کوئی ایک لفظ نہیں بولتا ہے۔


عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہمارے آبا و اجداد نے ملک کی جس آزادی کے لئے اپنا خون بہایا آج وہ آزادی، جمہوریت اور آئین خطرے میں ہے۔ ملک کو بچانے کی اس جنگ میں سب کو ایک ساتھ آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف چار لوگ ملک چلا رہے ہیں۔ دو خرید رہے ہیں اور دو فروخت کر رہے ہیں اور چاروں گجراتی ہیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی کا نظریہ ذاتوں اور مذاہب کے درمیان لوگوں کو تقسیم کر کے حکومت کرنے کا ہے۔ گزشتہ 8 سالوں میں یہ سیاست نہایت زوروں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جہاں تمام ذات و مذاہب کے لوگ سکون واطمینان سے رہ رہے ہیں، وہیں بی جے پی اس میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ملکی دولت فروخت کر ملک چلا رہی ہے۔ نریندر مودی حکومت نے پبلک سیکٹر کی 24 کمپنیوں و اداروں کو فروخت کر دیا ہے۔ ملک کو تباہ کرنے کا کام جاری ہے۔ ملک کو اس نظریے اور تقسیم کی سیاست سے بچانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر کانگریس اقلیتی شبعہ کے صدر ایم ایم شیخ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اقلیتوں کو کانگریس سے بہت امیدیں ہیں اور ہمیں ان امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک عہدیدار کی حیثیت سے ہمیں کسی صلے اور کسی ستائش کی قطعی طلب نہیں ہے، بس ہم چاہتے ہیں کہ اقلیتوں کے مسائل حل ہوں اور اس کے لئے کانگریس میں بھی اقلیتوں کو بھرپور نمائندگی اور احترام ملنا چاہئے۔ ایم ایم شیخ نے اس موقع پر ضلعی کمیٹیوں میں اقلیتی شعبے کے عہدیداروں کی شمولیت کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اگر ان کمیٹیوں میں اقلیتی طبقے کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا تو وہ مزید مضبوطی کے ساتھ کام کر سکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کے بڑے لیڈروں نے چھوٹے کارکنان کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہیں بھی مختلف کمیٹیوں میں شامل کرنا چاہئے، ایس ای او بنانا چاہئے تاکہ انہیں احساس ہو کہ ان کی بھی عزت ہے۔


ٹیکسٹائل کے وزیر اسلم شیخ نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور مرکزی کی مودی حکومت پر جم کر تنقید کی۔ اس میٹنگ میں وقف بورڈ کی صدر ایم ایل اے وجاہت مرزا، مہاراشٹر اور ممبئی اقلیتی کانگریس کے قومی انچارج احمد خان، ریاستی اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایم شیخ، ابراہیم بھائی جان، ریاستی جنرل سکریٹری دیو آنند پوار، مناف حکیم، ممبئی کانگریس اقیتی شعبہ کے صدر ببو خان اور دیگر لیڈران شامل تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔