آسام میں مسلم بستیوں کو نہیں ملک کے آئین و قانون کو کیا جا رہا ہے بلڈوز: مولانا ارشد مدنی

مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں دفتر جمعیۃ علماء ہند میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی اور امن و قانون کی ابتری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>جمعیۃ علماء ہند کے صدر&nbsp;مولانا ارشد مدنی</p></div>
i
user

پریس ریلیز

نئی دہلی 30/اگست2025 : جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں دفتر جمعیۃ علماء ہند میں منعقد ہوا، اجلاس کے شرکاء نے ملک کی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن و قانون کی ابتری، اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک، عبادت گاہ ایکٹ کے باوجود مدارس و مساجد کے خلاف فرقہ پرستوں کی جاری مہم اور خاص طور پر آسام میں جاری انخلا اور پچاس ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر بلڈوز کرنے کی کارروائی پر اور فلسطین میں اسرائیل کی جارحانہ دہشت گردی پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا، اور ان جیسے بہت سارے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دو مسائل ہوں تو انہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبار ہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا پیدا کر دیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتا کہ دوسرا تنازعہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چہار جانب سے مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقہ سے ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندو مسلمان کرنے کے علاوہ حکومت اور فرقہ پرستوں کے پاس کوئی دوسرا ایشو ہی نہیں رہ گیا، اس وقت ملک کے حالات جس قدر تشویشناک ہیں اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی، اقتدارکی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آ رہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے، فرقہ پرست اور انتشار پسند قوتوں کا بول بالا ہو گیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، تہذیب اورمذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے، آج ملک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نفرت کو حب الوطنی کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے اور ظالموں کو قانون کی زد سے بچایا جا رہا ہے بلکہ ملک میں فرقہ واریت کی آگ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کا وجود بھی جھلس رہا ہے۔


مولانا مدنی نے صاف لفظوں میں کہا کہ آزادی کے بعد ہی سے فرقہ پرست ذہنیت کو کھلا میدان مل گیا، حکومت نے اس ذہنیت کو ختم کرنے کے لئے کبھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ایسے میں تنہا جمعیۃ علماء ہند ایک ایسی سیکولر جماعت تھی جو ہر سطح پر فرقہ وارانہ ذہنیت کا مقابلہ کر رہی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی لڑائی کسی فرد یا تنظیم سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے، کیونکہ ملک میں قانون و انتظام کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور ملک کے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا اسی کی ذمہ داری ہے، چنانچہ ملک میں جب جب مسلمانوں کے خلاف کوئی مسئلہ کھڑا کیا جاتا ہے ہم اس کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس میں فریق حکومت ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد جب ہمارے بعض اکابرین نے اپنے مسائل کو لے کر سڑکوں پر اترنے کی بات کہی تو دوسرے اکابرین نے اس کی مخالفت کی ان  کا موقف تھا کہ ہمیں اس حکمت عملی کو اختیار کرنا چاہئے کہ مسلم عوام کا مقابلہ فرقہ پرستوں سے نہیں حکومت سے ہے، اگر ہم سڑکوں پر اترے تو ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور یہ بات ہمارے لئے ہی نہیں ملک کے لئے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے اکابرین کے بتائے ہوئے راستہ پر پوری مضبوطی اور کامیابی کے ساتھ گامزن ہے ٹکراؤ کی سیاست کی جگہ ہم قانونی طور پر لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ مولانا مدنی نے دیگر اہم مسائل کے ساتھ ریاست آسام کا خاص طور پر ذکر کیا اورکہا کہ آسام میں پچھلے کچھ عرصہ سے مسلم آبادیوں کو نشانہ بنا کر اس میں رہنے والوں کو بے گھر کر دینے کی منصوبہ بند مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کر کے مسلم بستیوں کو نہیں آسام میں ملک کے آئین و قانون کو بلڈوز کیا جا رہا ہے، یہ صرف سیاسی اور مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی قابل مذمت کارروائی ہے، مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کی شہریوں جیسا سلوک ہو رہا ہے، جس کی مذمت ملک کا ہر انصاف پسند شہری کر رہا ہے، مگر ریاست کے وزیر اعلیٰ کو نہ آئین و قانون کی پرواہ ہے اورنہ ہی عدلیہ کا خوف، یہی وجہ ہے کہ جب بعض معاملوں میں سپریم کورٹ میں بلڈوزر کارروائی پر روک لگا دی تو دوسری مسلم بستیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ ظلم ایسا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔


مولانا مدنی نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو بے گھر کر کے انہیں ریاست سے باہر کر دینے کی ایک منظم سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسام میں امن و امان کے قیام اور مظلوموں کو انصاف دلانے کی غرض سے جمعیۃ علماء ہند واحد ایسی تنظیم ہے جو ابتداء ہی سے قانونی جدوجہد کرتی آئی ہے، جس میں اسے الحمد للہ ہر موقع پر کامیابی ملی ہے۔ چنانچہ اب تازہ مہم کے تحت جس طرح مذہب کی بنیاد پر تقریباً پچاس ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا جمعیۃ علماء ہند کو نہ صرف سخت تشویش ہے بلکہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا سے یہ درخواست بھی کرتی ہے کہ وہ اس معاملہ کا از خود نوٹس لے اور جو لوگ بھی اس غیر قانونی کارروائی میں شامل ہیں اس کے خلاف قانونی اقدامات صادر کرے بلکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ جس طرح مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہریلے بیانات دے رہے ہیں ان کے خلاف بھی مقدمات قائم ہونے چاہئیں، تاکہ ریاست میں قانون و انصاف کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے، اقتدارمیں بیٹھے ہوئے لوگوں کے نفرت انگیز بیانات پر قدغن لگ سکے۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کسی بھی سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کی تائید نہیں کرتی ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ جن مسلم بستیوں کو غیر قانونی کہہ کر بلڈوز کیا جا رہا ہے وہ آج کی نہیں بہت قدیم بستیاں ہیں اگر وہ بستیاں غیر قانونی تھیں تواس سے پہلے کی حکومتوں نے وہاں کی عوامی خدمات کی تمام سہولیات کیوں فراہم کیں، لیکن افسوس قانون و انصاف کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف مسلم بستیوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہاں کے وزیر اعلیٰ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ہم صرف میاں مسلم لوگوں کو بے دخل کر رہے ہیں، یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ کارروائی مسلم دشمنی پر مبنی ہے اور غیر قانونی کارروائی ہے، وزیر اعلیٰ یہ بھی کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہٹایا گیا ہے اب ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیے جائیں گے یعنی انہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب ملک میں کوئی قانون نہیں رہ گیا؟ کیا کسی وزیراعلیٰ کا فرمان ہی اب قانون ہے؟ عدلیہ کی اب کوئی ضروت نہیں رہ گئی؟ کیا ایک وزیر اعلیٰ کسی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم کر دینے کا اختیار رکھتا ہے؟


مولانا مدنی نے آگے کہا کہ جب ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہی مسلمانوں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان دیں تو پھر دوسرے لوگوں کو تو حوصلہ ملے گا ہی۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص جب سے وزیر اعلیٰ بنا ہے جہاں جاتا ہے زہریلی تقریریں کرتا ہے مسلمانوں کو کھلے عام گھس پیٹھیا کہتا ہے۔ در حقیقت ایسا کر کے ریاست کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی ایسی خلیج پیدا کرنے کے در پے ہیں جسے آسانی سے پاٹا نہ جا سکے اور یہ بات آئین کی توہین کے مترادف ہے جس میں ملک کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق و اختیارات دیئے گئے ہیں۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص آسام کے  لاکھوں مسلمانوں کی شہریت چھین لینے کا خواب دیکھتا تھا اسی لئے 1951 کی مردم شماری کو شہریت کی بنیاد کا مطالبہ سامنے آیا تھا مگر جمعیۃ علماء ہند کی بر وقت قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں جو فیصلہ آیا اس میں تمام فرقہ پرستوں کے ناپاک ارادوں پر پانی پھیر دیا جو اس امید میں پاگل ہوئے جارہے تھے کہ دفعہ 6A کی منسوخی کے بعد غیر ملکی قرار دے کر کروڑوں لوگوں کو ریاست سے باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کے بعد در اندازی اور غیر ملکی شہریوں کا معاملہ بالکل صاف ہو گیا ہے مگر فرقہ وارانہ صف بندی کی خاطر فرقہ پرست طاقتیں ریاست میں اس مسئلہ کو دوبارہ زندہ رکھنا چاہتی ہے مسلمانوں کو بے گھر کردینے کی مہم اسی منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔

جمعیۃ علماء آسام کے صدر مولانا مشتاق عنفر اور آمسو کے صدر رضاء الکریم دیگر لوگوں کے ساتھ دہلی میں موجود ہیں اور سپریم کورٹ کے وکلاء کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے فیصلہ کے مطابق ان شاء اللہ جلد ہی سپریم کورٹ میں اس کے خلاف پٹیشن داخل کردی جائے گی۔ مجلس عاملہ غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کی شدید مذمت کرتی ہے، تقریباً ایک لاکھ انسانوں کا قتل اور عام شہریوں کو بھوک پیاس سے مارنا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، اس کے علاوہ گریٹر اسرائیل کی فتنہ انگیزی اورغزہ پر مکمل قبضہ کا اعلان فلسطینوں کو مٹانے اور باقی ماندہ زمین ہڑپنے کی بدترین سازش ہے۔ مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند غزہ میں جنگ بندی کے لئے بین لاقوامی اورعالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں اس کے ساتھ خوراک، ایندھن اور فوری طبی امداد کے لئے راستوں کو کھلوائیں اور حکومت ہند سے بھی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسرائیل کے جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس کے ساتھ تمام فوجی اور اسٹریٹجک تعلقات کو معطل کرے۔ جمعیۃ علماء ہند عام شہریوں اور اداروں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی کاز کی حمایت کریں اورمظلوموں کی آواز بنیں۔


جمعیۃ علماء ہند کا یہ ماننا ہے کہ اس تباہی و بربادی میں امریکہ کا ہاتھ ہے اور فلسطین میں عربوں کی نسل کشی میں وہ اول نمبر کا شریک ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ غزہ کو انسانی آبادی سے خالی کر کے یہاں یہودیوں کو بسایا جائے لیکن ان شاء اللہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ جمعیۃ علماء ہند کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے۔ ان ناگفتہ بہ اور خطرناک حالات میں امریکہ اور اس کے صدر کی غاصب اور ظالم اسرائیل کی بے جا حمایت انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ مجلس عاملہ نے غزہ کے مجاہدین کی ہمت و جرأت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ اسرائیل اور وہ تمام ممالک جو حماس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں آج بری طرح ناکام ہیں، اس منظر نامہ کو قائم رکھنے کے لئے بلا شبہ غزہ کے ایک لاکھ  شہیدوں نے اپنا خون دیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند حریت پسند فلسطینیوں کو اپنے قلبی ہمدردی کا یقین دلاتی ہے اوران کے مطالبہ حریت و آزادی کی دل وجان سے تائید کرتی ہے۔ دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کے حوصلہ اوران کی ہمت کو بلند رکھتے ہوئے ان کی نصرت فرمائے۔ نیز اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دشمنوں کو نیست ونابود اور تہہ و بالا کر دے، آمین۔

اجلاس میں صدر جمعیۃ کے علاوہ، نائب صدر مولانا سید اسجد مدنی، ناظم عمومی مفتی سید معصوم ثاقب، مفتی غیاث الدین رحمانی حیدرآباد، مولانا بدر احمد مجیبی پٹنہ، مولانا عبد اللہ ناصر بنارس، قاری شمس الدین کلکتہ، مفتی اشفاق احمد اعظم گڑھ، حاجی سلامت اللہ دہلی،  فضل الرحمن قاسمی، مفتی عبد القیوم منصوری گجرات، پروفیسر نصر اللہ مدراس، مولانا حلیم اللہ قاسمی ممبئی، مفتی اشرف عباس قاسمی دیوبند، مولانا سید اشہد رشیدی مرادآباد، مفتی محمد اسماعیل مالیگاؤں، مولانا عبد الرشید قاسمی آسام، مولانا مشتاق احمد عنفر آسام، فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ دہلی، کے علاوہ بطور مدعوئین خصوصی مولانا محمد راشد راجستھان، مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی، مولانا محمد احمد بھوپال، مولانا عبد القیوم مالیگاؤں، مفتی حبیب اللہ جودھپور، جناب احتشام الحق جامعہ ملیہ اسلامیہ وغیرہ شریک ہوئے۔ اجلاس کا اختتام صدر محترم کی دعا پر ہوا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔