مصطفیٰ مسجد کو ’ڈیمولیشن آرڈر‘ کے بغیر منہدم نہیں کیا جائے گا، عدالت میں ایم ڈی اے کی یقین دہانی

تنازعہ 21 اگست 2026 کو اس وقت شروع ہوا جب مصطفیٰ مسجد کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا، جس کے خلاف مسجد کے ذمہ دار ذیشان احمد فرید نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: مرادآباد کے پاکبڑا علاقہ میں واقع مصطفیٰ مسجد سے متعلق 24 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں ’مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (ایم ڈی اے) کی جانب سے واضح طور پر یقین دہانی کرائی گئی کہ ’ڈیمولیشن آرڈر‘ (انہدامی حکم) صادر کیے بغیر مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس معاملے میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر مسجد فریق کو قانونی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ششی نندن اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈووکیٹ محمد طاہر حکیم اور ایڈووکیٹ محمد نظام پاشا نے قانونی رہنمائی فراہم کی۔ 24 ستمبر 2026 کو جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔


واضح ہو کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 21 اگست 2026 کو مصطفیٰ مسجد کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا، جس کے خلاف مسجد کے ذمہ دار ذیشان احمد فرید نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل ششی نندن نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ نوٹس مبہم ہے۔ متنازعہ نوٹس 21 اگست 2026 کو جاری کیا گیا تھا۔ عرضی گزار کو جواب داخل کرنے کے لیے کم از کم 15 دن کا وقت دیا جانا چاہیے تھا، لیکن جواب داخل کرنے کی تاریخ 3 ستمبر 2026 مقرر کی گئی۔ مزید کہا گیا کہ زمین کی تفصیل بھی درست نہیں ہے، کیونکہ نوٹس میں اس رقبے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے جسے منہدم کیا جانا ہے۔

دوسری جانب مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایم سی چترویدی نے ایک ہفتہ کا وقت طلب کیا اور یقین دہانی کرائی کہ جب تک کوئی انہدامی حکم صادر نہیں ہوتا، اس وقت تک انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اب اس مقدمے کی اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔