دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں، اقلیتی کمیشن میں مسلم عیسائی مذاکرہ

پوپ کہتے ہیں کہ اصل تعلیم یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو ٹھیک سے جانو۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ کا خاتمہ یہ ہے کہ دلوں سے نفرت وکدورت ختم ہو کیونکہ خدا امن وسلامتی کی تلاش کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اقلیتی کمیشن میں مسلم عیسائی مذاکرہ
اقلیتی کمیشن میں مسلم عیسائی مذاکرہ

پریس ریلیز

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے اسلامک اسٹڈیز ایسوسی ایشن کے تعاون سے مسلم عیسائی مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں دونوں فرقوں کے اہم علماء، دانشور اور صحافی شریک ہوئے۔ مذاکرے سے پہلے نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے احترام میں حاضرین نے ایک منٹ خاموش رہ کر دعائے مغفرت کی۔ صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مذاکرے کا افتتاح کرتے ہوئے تاریخی طور پر مسلم عیسائی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ مریم کو بہت ممتاز طور سے ذکر کیا گیا ہے۔ شروع اسلام میں مسلم عیسائی تعلقات بہت اچھے تھے اور مکہ سے پہلی دو ہجرتیں حبشہ کو ہوئی تھیں جس کا حاکم ایک عیسائی تھا۔ اسی تعلق کی وجہ سے مسلمانوں نے حبشہ کو کبھی فتح نہیں کیا۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ صلیبی جنگوں اور استعماری دور سے مسلم ممالک کو بڑا نقصان پہنچا لیکن اس کے باوجود مسلم ممالک میں رہنے والے عیسائی محفوظ رہے بلکہ ان کے حالات وہاں کے مسلمانوں سے بہتر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی رواداری کی وجہ سے مسلم ممالک میں چار عیسائی مذہبی شاخوں کے صدر مقام ہیں یعنی مصر میں قبطی چرچ، شام میں سیریاک آرتھوڈکس چرچ، ترکی میں پیٹریارک ا ٓف کانسٹی ٹینوپل اور لبنان میں مارونی چرچ جو اگرچہ کیتھولک چرچ کے ساتھ متحد ہے لیکن پوری طرح سے آزاد ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ مذاکرے کی وجہ پچھلی فروری میں جاری ہونے والا وہ وثیقہ ہے جس پر پاپائے روم فرانسس اور شیخ الجامع الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے مشترکہ طور پرمسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان عمدہ تعلقات کے لئے دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ وثیقہ مسلم عیسائی تعلقات کے بارے میں ہے، لیکن درحقیقت یہ تمام مذاہب کے درمیان عمدہ تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مذاکرے کی نظامت کرتے ہوئے یونٹی ارتھ انڈیا کی ڈائریکٹر لکشمی مینن نے مسلم عیسائی تعلقات پر روشنی ڈالی اور بالخصوص صلیبی جنگوں کے دوران فرانسس آف اسیسی اور مصری سلطان الملک الکامل کے درمیان سنہ 1219 میں ملاقات کا ذکر کیا جس کی وجہ سے صلیبی جنگوں کی تلخی کے باوجود مسلم عیسائی تعلقات دوبارہ استوار ہوئے۔

ودیا جیوتی کالج کے پروفیسر پولوس منگائی نے مسلم عیسائی مذاکروں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ پہلے عیسائی چرچ غیر عیسائیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھا لیکن 1942 میں اس نے اپنا موقف بدلا اور غیر عیسائیوں سے تعلقات بڑھانے اور ان سے مذاکرے کرنے کی بنیاد ڈالی۔ سنہ2013 موجودہ پوپ فرانسس کے آنے کے بعد کافی تبدیلی آئی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کو بدلنے کے لئے مذہب بہت بڑی طاقت ہے۔ پوپ فرانسس پہلے پوپ ہیں جنہوں نے جزیرۂ عرب کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دبئی میں انہوں نے مصر کے شیخ الازہر کے ساتھ مل کر ایک وثیقہ باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے جاری کیا۔ پروفیسر منگائی نے کہا کہ عیسائی سوچ یہ ہے کہ ہم خدا کی صحیح معنوں میں عزت اسی وقت کرتے ہیں جب ہم اس کے بنائے ہوئے اشرف المخلوقات یعنی انسان کی عزت کرتے ہیں۔ پوپ فرانسس کہتے ہیں کہ اصل تعلیم یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو ٹھیک سے جانو۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلحہ کا اصل خاتمہ یہ ہے کہ دلوں سے نفرت وکدورت ختم ہو کیونکہ خدا امن وسلامتی کی تلاش کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ سماجیات کی پروفیسر شرینا بانو نے کہا کہ ویٹیکن اور الازہر کے مشترکہ وثیقے کو عوام کی تعلیم کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہم الگ الگ سوچتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اتحاد ہوجائے گا جبکہ ہماری جدوجہد ہونی چاہیے کہ ہم مل کر ایک ساتھ سوچیں۔ اسی بنیاد پر اسکولوں کے نصاب کی تشکیل نو ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فن لینڈ نے تعلیم کے میدان میں انقلابی تجربے کیے ہیں جن سے ہم کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مفکر باسط جمال نے، جو کہانیوں کے ذریعے نئی نسل میں اسلامی تعلیمات کو جاگزیں کرنے کا کام کررہے ہیں، نے کہا کہ اگر کچھ لوگ سماج میں دوستی چاہتے ہیں تو وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو دوستی نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سورۂ ممتحنہ میں اللہ پاک نے ہم کو صاف طور سے حکم دیا ہے کہ جوغیر مسلمین ہم سے لڑائی نہیں کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا تعلق قائم کریں۔ اس ضمن میں انہوں نے صحرائے سینا میں واقع سینٹ کیتھرین چرچ میں موجود رسول اکرم کے فرمان کا ذکر کیا جس میں مسلمانوں کو عیسائیوں سے عمدہ سلوک کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر اورمعروف اسلامی اسکالر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ الازہر اور ویٹیکن کا مشترکہ وثیقہ مسلم عیسائی تعلقات بہتر کرنے کی سمت میں بہت بڑی کوشش ہے جس سے کوئی صاحب عقل اختلاف نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کوشش میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے خصوصاً ہندوستان میں جہاں بہت سی مذہبی روایات جمع ہیں، بلکہ یہاں یہودی، سیرین آرتھوڈکس اور اسلام بالکل شروع میں آئے اور یہاں کا حصہ بن گئے۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مذہبی تعددیت اللہ تعالی کی حکمت کی وجہ سے ہے، ورنہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی مذہب کا پیروکار بنا دیتا۔ جو کام اللہ نے نہیں کیا ہے، ہم اس کے لئے کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ اللہ نے اپنے نبی کو لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لئے نہیں بھیجا تھا بلکہ اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اللہ پاک نے ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ (تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے) کہہ کر ہمیشہ کے لئے فیصلہ کردیا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اختلافات صرف مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ خود ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان بھی موجود ہیں، اس لئے مذاہب کے اندر بھی داخلی جمہوریت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو ان تمام فلسفوں کے خلاف فرنٹ بنانا چاہیے جو مذہب کے خلاف ہیں، چاہے وہ نفرت پر قائم ہوں، جہالت پر یا دہشت گردی پر۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دنیا کے لئے’’ہندوستان ماڈل‘‘ کام کرے گا کیونکہ ہم ہزاروں سال سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ ہمیں اپنے دائرے کو وسیع کرنا چاہیے۔ یہاں نہ کوئی اکثریت ہے اور نہ کوئی اقلیت۔ آپ جیسے چاہیں عبادت کریں لیکن کسی سے نفرت نہ کریں۔

دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر خورشید عالم نے کہا کہ الازہر اور ویٹیکن کا مشترکہ وثیقہ پوری طرح مکمل ہے اور اس کے دائرے میں سارے مذہبی گروپ آتے ہیں۔ اس میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ دل سے نکلی ہیں اور وہ سب کو برابر سمجھتی ہیں، کوئی نہ اقلیت ہے نہ اکثریت۔ انہوں نے ایک نئے افلاطونی فکر کا مطالبہ کیا جس کے مطابق خدا ہر جگہ موجود ہے اور انسان کو ہر ایک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسروں کے دماغوں میں جو زہر بھرا ہے وہ عام آدمیوں میں نہیں ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے وابستہ اور جامعہ ملیہ کے سابق پروفیسر ڈاکٹر سید جمال الدین نے کہا کہ تصوف کے انحطاط سے انسانی اقدار میں انحطاط شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایک روحانی فیملی ہونی چاہیے جس کے لئے روح کی تطہیر ضروری ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے رہنما اقبال ملا نے کہا کہ الازہر۔ویٹیکن وثیقے کی بنیاد انسانیت پر ہے جس کی آج کے حالات میں شدید ضرورت ہے۔ ان خیالات کو عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں جانا چاہیے۔ ایسے خیالات رکھنے والوں کی ایک فیڈریشن بننی چاہیے کیونکہ سماج میں طاقت رکھنے والوں کے خیالات الگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماحول بنایا گیا ہے کہ ساری خرابی مذہب سے ہے جبکہ مسئلہ مذہب کے غلط استعمال سے شروع ہوتا ہے۔انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک واقعہ نقل کیا کہ کسی نے ان سے کہا کہ اب تو داڑھی رکھنے والے بھی چوری کرنے لگے ہیں تو حضرت نے فرمایا، نہیں بھئی، یہ کہیے کہ اب چوروں نے بھی داڑھی رکھ لی ہے!

اسلامی فقہ اکیڈمی کے سکریٹری امین عثمانی نے کہا کہ الازہر۔ ویٹیکن وثیقہ ایک جامع بیانیہ ہے جو دو بڑے مذاہب کے رہنماؤں نے تیار کیا ہے۔ اس کی تائید بڑی مسلم تنظیموں کو کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں انہوں نے ذکر کیا کہ الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے صدر ڈاکٹر احمد الریسونی نے اس وثیقے کی تائید کی ہے۔

مذاکرے کے آخر میں صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اعلان کیا کہ کمیشن جلد ہی تمام سرکردہ مذہب کے لیڈروں کی کانفرنس بلا کر الازہر ویٹیکن وثیقے پر چرچا کرے گا اور اس کے پیغام کو عام کرے گا جو تمام مذاہب پر منطبق ہوتے ہیں۔