مولانا محمود مدنی نے بہار میں ماب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعہ پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھا خط
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تحریر کردہ اپنے خط میں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کے لیے معقول معاوضہ کا مطالبہ کیا۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے حالیہ دنوں بہار میں مسلم اقلیت کے خلاف پیش آنے والے ماب لنچنگ اور قتل کے پے در پے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مدنی نے وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار کو ایک تفصیلی خط تحریر کیا ہے جس میں فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ مہاتما بدھ کی سرزمین بہار سماجی ہم آہنگی اور عدم تشدد کی درخشاں روایت کے لیے مشہور ہے، لیکن ان واقعات نے اس کی شبیہ کو کافی متاثر کیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک میں نفرت پھیلانے والوں کو کھلی آزادی دی جا رہی ہے، جس میں عام شرپسندوں کے ساتھ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی تک شامل ہیں۔ لیکن جب نفرت خونریزی اور قتل کی شکل اختیار کر لے تو ریاست کی خاموشی نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس لیے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور عوام کا مجروح اعتماد بحال کریں۔
اپنے خط میں مولانا مدنی نے حالیہ تمام سنگین واقعات کی نشان دہی کی ہے، جن میں نوادہ ضلع کے ایک مسلم کپڑا فروش محمد اطہر حسین کے ساتھ وحشیانہ عمل، بعد ازاں اس کی موت، گوپال گنج کے متھیا گاؤں میں احمد آزاد کو گوشت رکھنے کے شبہ میں بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرعام پیٹا جانا، مدھوبنی کے چکدہا بستی میں محمد مرشد عالم کو ’بنگلہ دیشی‘ بتار کر اغوا، تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنانا، جھنجھار پور میں محمد قیوم کو معمولی تنازعہ کے بعد قتل کیا جانا اور مدھے پورہ کے مرلی گنج تھانہ کے بھیرو پٹی گاؤں میں بیوہ مسلم مزدور حنا پروین کا اغوا، مبینہ عصمت دری اور بہیمانہ قتل جیسے دل دہلا دینے والے واقعات شامل ہیں۔
مولانا مدنی نے خصوصی طور پر حنا پروین کے خلاف پیش آنے والے جرائم پر شدید رنج و غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ پروین جیسی مظلوم بیوہ، جو 6 بچوں کی واحد کفیل تھیں، کا بہیمانہ قتل ہمارے سماج اور انتظامی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے۔ غفلت یا ساز باز کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور متاثرین کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ اور مکمل باز آبادکاری فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھیڑ کے ہاتھوں انصاف، فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور قانون شکنی کی روک تھام کے لیے واضح اور لازم ہدایات جاری کی جائیں۔
مزید برآں مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کی تمام مقامی اکائیوں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں، بالخصوص یتیم بچوں اور دیگر ضرورت مند افراد کی فوری مدد کے لیے آگے آئیں، قانونی معاونت، راحت رسانی اور باز آبادکاری میں بھرپور کردار ادا کریں تاکہ انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی مثال قائم ہو۔ جمعیۃ علماء ہند نے امید ظاہر کی ہے کہ بہار حکومت بلا تاخیر سنجیدہ، ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات اٹھا کر انصاف، امن و امان اور آئینی اقدار کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔