صحافی جاوید کاظم سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

مرحوم کی تدفین میں تاخیر کی وجہ ان کے بیٹے کا دبئی اور جاپان سے بھائی کے آمد کی وجہ سے ہوئی- مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

لکھنؤ: سینئر صحافی اور اردو روزنامہ ’قومی خبریں‘ کے کارگزار ایڈیٹر جاوید کاظم کا کل بروز منگل طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا تھا اور آج بروز بدھ انھیں مقامی آغا باقر کے امام باڑہ میں سوگواروں کی ایک کثیر تعداد کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین میں تاخیر کی وجہ ان کے بیٹے کا دبئی اور بھائی کے جاپان سے آمد کی وجہ سے ہوئی- مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں-

جاوید کاظم نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز روزنامہ نوجیون سے قریب 35 سال قبل کیا تھا، اخبار کے لکھنؤ دفتر کے بند ہو جانے تک اس سے وابستہ رہے۔ اخبار کے بند ہو جانے کے بعد انہوں نے کچھ دنوں تک کچھ چینلوں کے لئے بھی کام کیا اور جب انڈین ایکسپریس اور جن ستا کی فرنچائزی لے کر کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیرآنجہانی ڈاکٹر اکھلیش داس نے ان اخباروں کی اشاعت لکھنؤ سے شروع کی تو جاوید کاظم ان اخباروں سے وابستہ ہو گئے اور تاحیات ان سے وابستہ رہے۔

مذکورہ اخباروں کی اشاعت شروع ہونے کے کچھ دنوں بعد ڈاکٹر اکھلیش داس نے اردو روزنامہ قومی خبریں کی اشاعت بھی شروع کی تو جاوید کاظم اس کے چیف رپورٹر کے طور پر وابستہ ہوئے اور پھر ترقی کر کے کارگزارٹ ایڈیٹر ہو گئے۔

مرحوم جاوید کاظم گونا گوں خوبیوں کے مالک تھے ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کو آگے آتے تھے بہت ملنسار، ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے یو پی پریس کلب کی تو خاص رونق تھے، صحافیوں کی سرگرمیوں مے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے تھے ان کے تعلقات کا دائرہ بھی بہت وسیع تھا- یو پی پریس کلب میں ان کے انتقال پر تعزیتی جلسہ کیا گیا جس میں شہر کے سینئر صحافیوں کے علاوہ سماج کے دیگر طبقہ کے اہم افراد نے شرکت کر کے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کی۔