مساجد پر حملہ: اسلاموفوبیا سے متاثر اور متعصب لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم شہید مسلمانوں کے اہل خانہ کے ہر غم میں شریک نظر آئیں اور اب ان سے ’اسلاموفوبیا‘ کے نظریات کا پرچار کرنے والے افراد کے خلاف ملک بھر میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

دیوبند: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں سفید فام عیسائی دہشت گرد کی جانب سے نماز جمعہ کے دوران مسلمانوں پر فائرنگ کر کے 50 بے گناہ معصوم مسلمانوں کو شہید کرنے کے واقعہ نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پچاس سے زائد ممالک نے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس واقعہ پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس سلسلے میں تجزیہ نگار شاہد معین نے مغربی ممالک میں وائرس کی طرح تیزی سے پھیلتے ’اسلامو فوبیا‘ کو اس حملہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کے نظریات کے حامل افراد پر فوری قدغن لگانے کا نیوز لینڈ کی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے۔

شاہد معین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اسلامو فوبیا کے شکار نسل پرست لوگوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت ،تعصب پرستی اور دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ لازم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا منفی استعمال تیزی سے کیا جارہا ہے اور اس بات کا اعتراف مغرب سے تعلق رکھنے والے غیر جانبدار صحافی بهی کرچکے ہیں ۔‘‘ انهوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے خلاف ’اسلامو فوبیا‘ سے متاثر متعصب افراد کے زیر تحت چلنے والے آن لائن نیوز چینل و ہفت روزه جریدے کے ذریعہ نفرت کا پرچار معمول بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا مسلمانوں کے تئیں نفرت و تعصب کا شکار ہورہی ہے اور ان کے نظریات نسل پرستی میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

ساتھ ہی شاہد معین نے یہ بھی کہا کہ ’’نسلی تعصب ہی لوگوں کو تشدد پر اکساتا ہے، جیسا کہ نیوزی لینڈ میں ہوئے مسجد کے اندر اندھا دھند فائرنگ واقعہ کے ذمہ دار بھی انہی جیسے لوگ ہیں جو لوگوں کو تشدد کے لیے اُکسا رہے ہیں۔ اس لیے ان کے نظریات والے فورمز(سوشل میڈیا اکاؤنٹس ) اور زمینی سطح پر چلنے والی مقامی تنظیموں پر فوری قدغن لگایا جائے ۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس کی ابتداء نظریات پر اور انتہا خونریزی پر ہے کیونکہ اسلاموفوبیا ‏(اسلام سے نفرت یا اسلام مخالف جذبات) جیسے نظریات رکهنے والے دن بہ دن دہشت گردی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، ان کو کسی بهی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے متعصب لوگوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاون شروع کیا جائے،اور ان کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرکے بلیک لسٹ کیا جائے۔