دہلی: کانگریس دفتر میں منایا گیا مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم پیدائش

دہلی پر دیش کانگریس کمیٹی میں مولانا ابو الکلام آزاد کایوم پیدائش منایا گیا اور اس موقع پر ریاستی صدر سبھاش چوپڑہ نے انہیں خراج عقیدت پیش کی۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی: مولانا ابو الکلام آزاد کے یوم پیدائش پر آج دہلی پر دیش کانگریس دفتر میں منعقد پروگرام میں آج ریاستی صدر سبھاش چوپڑہ نے ان کی تصویر پر پھول چڑھاکرانہیں خراج عقیدت پیش کی۔پروگرام میں موجود کانگریس کارکنان نے بھی مولانا آزاد کی تصویر پر پھول چڑھائے۔

اس موقع پر ریاستی صدر سبھاش چوپڑہ نے کہا کہ مولانا ابو الکلام آزاد ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔وہ ایک دانشور ہونے کیساتھ ایک شاعر بھی تھے۔انہوں نے مذہبی انتہا پسندی نجات پانے کےلئے اپناعرف نام آزاد رکھ لیا۔مولانا ابو الکلام ازاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے۔ چوپڑہ نے مزید کہا کہ مولانا آزاد عدم تعاون تحریک سے لے کر 1942 تک بھارت چھوڑو آندولن تک متعدد بار گرفتار ہوئے ۔1923 اور 1940 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے عہدہ صدارت پر فائزرہے۔آزاد صاف خیالات کے مالک تھے۔سبھاش چوپڑہ نے کہا کہ مولانا آزاد کا یہ ماننا تھا کہ جب سبھی مذاہب ایک ہی پر خدا مالک کو حاصل کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں تو ان میں آپسی جھگڑا کیوں ہے؟ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کے طور پر انہوں گیارہ برس تک قومی پالیسی کو راہ دکھائی ۔

سبھاش چوپڑہ نے کہا کہ پہلے وزیر تعلیم بننے پر مفت تعلیم ،تعلیم کے فروغ اور اعلی تعلیمی اداروں کے قیام پر خاص زور دیا۔مولانا آزاد نے آئی آئی ٹی اور یونیورسٹی گرانڈ کمیشن کے قیام میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کیا ۔انہوں نے سنگیت ناٹک اکادمی،ساہتیہ اکادمی اور للت کلا اکادمی کی بنیاد بھی اپنے دور اقتدار میں رکھی۔1951 میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کا قیام بھی انہیں کی دین ہے اسی کڑی میں بعد میں ممبئی ، چنئی ،کانپور اور دلی میں بھی آئی آئی ٹی کا قیام ہوا۔