’فارسی، اردو اور ہندی کی تدریس کا ازبکستان میں معقول انتظام‘

پروفیسر چندر شیکھر کا استقبال کرتے ہوئے پروفیسر علیم نے کہا کہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے شعبہ کے ایک ساتھی حکومت ہند کی ازبکستان میں نمائندگی کر رہے ہیں۔

تصویر برائے پریس ریلیز
تصویر برائے پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی: حکومت ہند کی جانب سے مقرر کردہ کلچرل ڈائرکٹر اور شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر چندرشیکھر کی شعبہ فارسی میں آمد پر صدر، شعبۂ فارسی پروفیسر علیم اشرف نے پرجوش استقبال کیا۔

استقبال کرتے ہوئے پروفیسر علیم نے کہا کہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے شعبہ کے ایک ساتھی حکومت ہند کی ازبکستان میں نمائندگی کر رہے ہیں۔ سابق صدر شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی پروفیسر ابن کنول نے بھی پروفیسر چندر شیکھر کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ازبکستان میں ان کی موجودگی اردو کے فروغ کا بھی ذریعہ بنے گی۔

پروفیسر چندر شیکھر نے بتایا کہ ازبکستان کے متعدد شہروں کئے تعلیمی اداروںمیں فارسی، اردو اور ہندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں کے لوگ نہ صرف ہندوستان کی زبانوں سے دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ یہاں کی تہذیب کو بھی پسند کرتے ہیں۔ ہندوستان اور ازبکستان کی تہذیب میں بہت کچھ یکسانیت ہے۔ مجھے تاشقند میں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا،لوگ مہمان نوازاورمخلص ہیں۔

پروفیسر چندر شیکھر نے یہ بھی اطلاع دی کہ بہت جلد سمرقند میں ہندوستانی مطالعات کا ایک مرکز شروع ہونے والا ہے، جہاں اردو،فارسی اورہندی زبانوں کی تدریس کا بھی اہتمام ہوگا۔ پروفیسر شندر شیکھر نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے تہذیبی اور لسانی رشتے بہت قدیم ہیں اور مستقبل میں ان کے اور مضبوط ہونے کی امید ہے،میری کوشش ہے کہ ہندوستان سے اساتذہ اورطلباوہاں جائیں اوروہاں کے اساتذہ اورطلبا ہندوستان آئیں۔