مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کا واحد ذریعہ حصول علم

مشرقی دہلی کے موجپور علاقہ میں ’آپ کے بچے بھی افسر بن سکتے ہیں‘ کہ عنوان سے پروگرام کا انعقاد، جس میں کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات، سماجی کارکن اور والدین نے شرکت کی۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی: مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور اعلی تعلیم کی طرف گامزن کرنے کے لیے سماجی کارکنان اور تعلیم یافتہ طبقہ اب سرگرم نظر آرہا ہے، ہماری آنے والی نسل کیسے ترقی کریں، سرکاری نوکری کیسے حاصل کریں، اسی فکر کو لے کر مشرقی دہلی کے موجپورعلاقہ میں واقع ایجو نووا گرلز اسکول میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مہمان خصوصی کے طور پر نصرت خانIES، جدید فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے سکریٹری محمد الیاس، سبکدوش کسٹم آفیسر شمیم الدین، ٹیچر ریاض الدین، محمد اخلاق، ڈاکٹر انیس احمد، محمد عارف، محمد عابد نے شرکت کی۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز

پروگرام کا آغاز محمد الیاس نے قرآن کی آیات اقراء کا حوالہ دیتے ہوئے کیا، انھوں نے طلبہ و طالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے ہی ہم اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں، ہمیں ایسا علم حاصل کرنا چاہیے جو علم نفع بخش ہو جس سے ہم تو ترقی کریں ہی ساتھ میں سماج بھی ترقی کرے یہ ترقی قلم سے ہی ملنے والی ہے۔ ہمارے اندر سوال کرنے کا مادہ ہونا چاہیے جو ہمارے اندر تحقیق کا مادہ پیدا کرے، جس سے ہماری معلومات میں مزید اضا فہ ہوسکے۔ اس کے بعد مہمان خصوصی کی حیثیت سے آئے نصرت خان نے پروگرام میں شامل طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے قابل ستائش کی بات ہے کہ آج ہم تھوڑی سی دیر کے لئے ہی صحیح، تعلیم پر غور وفکر کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

آج جو مسلمانوں کی پسماندہ حالت ہے اس کو سب جانتے ہیں اور یہ پسماندگی تعلیم سے ہی دور ہو سکتی ہے، ہمارے معاشرے میں حوصلہ افزائی کرنے والے کم اور حوصلہ شکنی کرنے والے زیادہ ہیں، ہم مسلمانوں میں ایک بات جو چل پڑی ہے وہ یہ ہے کہ پڑھ لکھ کر تعلیم حاصل کر کے کیا ہوگا، مسلمانوں کو سرکاری نوکری نہیں ملتی، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ اگر ہمارے پاس اعلی تعلیم اور اچھی معلومات ہے تو آپ کو کسی بھی طرح کی نوکری لینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

انھوں نے طلبا کو مسلسل جدو جہد کرنے کا مشورہ دیا ساتھ ہی انھوں نے کہا دسویں اور بارہویں کلاس میں ہی اپنے مستقبل کے راستہ کا انتخاب کریں۔ سول سروس کی تیاری آپ گریجویشن سے ہی کریں، آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور یوٹیوب پر ایسی متعدد ویڈیو آسانی سے مل جاتی ہیں جن سے سول امتحانات کی تیاری آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے والدین کی طرف خاص طور پر مخاطب ہوکر کہا کہ آج تعلیم و دیگر شعبہ میں خاتون بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، لہذا جو طالبات آگے پڑھنے کی خواہش رکھتی ہیں ان کو ضرور آگے پڑھنے کا مو قع دیں۔ ہارڈ ورک مسلسل محنت سے ہی منزل مقصود تک پہنچا جا سکتا ہے۔

پروگرام میں موجود ٹیچر ریاض الدین نے صحت کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی شہری زندگی نے زندگی گزارنے کے طرز عمل کو الٹ پلٹ کر دیا ہے، جس سے ہماری صحت پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر ہمارے پاس اچھی صحت ہوگی تبھی ہمارے پاس ایک اچھا دماغ ہوگا، جب اچھا ذہن ہمارے پاس ہوگا تو ہم اس کا بہتر ڈھنگ سے استعمال کرسکیں گے، اس کے لئے ہمیں بیلینس ڈائٹ لینے کی ضرورت ہے، جس سے ہمارا جسم توانا و تندرست رہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بچوں کو تعلیم کس طرح کرانی ہے اس کے بارے میں بھی کچھ نیک مشوروں سے نوازہ۔

سبکدوش کسٹم آفیسر شمیم الدین نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم ہی آدمی کو انسان بناتی ہے اور سوچنے کے دائرے میں وسعت پیدا کرتی ہے اگر ہماری زندگی میں تعلیم نہیں ہوگی تو معلومات اور دوسری اہم چیزوں سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

آخر میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا جس کو پروگرام میں آئے مہمان خصوصی نے تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے، جس سے پروگرام میں آئے زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے اپنے مستقبل کو لے کر جو ان کے ذہن میں شک و شبہات تھے وہ دور کیے۔ اس کے علاوہ پروگرام میں ظہران جیلانی، محمدعارف و دیگر کثیر تعداد میں لوگ شامل تھے۔