راجستھان میں مساجد کا انہدام آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور حق عبادت پر کاری ضرب: جمعیۃ علماء ہند

باڑمیر میں متاثرہ مساجد و مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ صورت حال اور آئندہ کی قانونی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>میٹنگ کا منظر</p></div>
i

نئی دہلی: راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مساجد، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند نے سخت احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور حق عبادت پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ چنانچہ پیش آمدہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر آج ایک اعلیٰ سطحی وفد مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی کی قیادت میں راجستھان پہنچا۔ جودھپور پہنچنے پر وفد کا استقبال جمعیۃ علماء راجستھان کے جنرل سکریٹری مولانا عبدالواحد کھتری و دیگر ذمہ داروں نے کیا، جس کے بعد وفد نے باڑمیر اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

اس مناسبت سے باڑمیر میں متاثرہ مساجد و مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ صورت حال اور آئندہ کی قانونی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ وفد نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ جمعیۃ علماء ہند ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جمعیۃ مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔


اس موقع پر وفد نے نام نہاد ’آپریشن کلین‘ مہم میں یک طرفہ کارروائی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر یہاں عبادت گاہیں اور مذہبی مقامات صدیوں سے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تھیں تو اچانک انہیں خطرہ قرار دینا نہ صرف حیران کن بلکہ انصاف اور منطق کے بھی خلاف ہے۔ دوسری طرف یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی مقامات کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے، قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا یکساں تحفظ کیا جائے۔ وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کی بالادستی، مساوی انصاف اور تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ، قومی یکجہتی کی ہی قومی سلامتی حقیقی بنیاد ہے۔ وفد نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اللہ کی جانب خوب متوجہ ہوں، استغفار و دعاء کا اہتمام کریں، باجماعت نمازوں کی ادائیگی کے ذریعہ مساجد کو آباد رکھیں اور امن و امان برقرار رکھیں۔

صورت حال سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر قاری محمد امین پوکرن اور جمعیۃ علماء راجستھان کے جنرل سکریٹری مولانا عبدالواحد کھتری نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند اس سلسلے میں سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے اعلیٰ سطحی وکلاء سے مشورہ جاری ہے اور جلد قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی راجستھان کے اضلاع بیکانیر، پھلودی، جیسلمیر اور باڑمیر میں اب تک متعدد مساجد، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے۔ بیکانیر میں 4 مساجد جبکہ پھلودی، جیسلمیر اور باڑمیر میں 9 مساجد اور متعدد مزارات زمین دوز کر دیے گئے ہیں، نیز کئی دیگر مذہبی مقامات کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں جیسلمیر کے رام گڑھ-تنوٹ بائی پاس روڈ پر واقع تقریباً 250 سال قدیم درگاہ حضرت محمود شاہ جیلانی بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجستھان کا یہ سرحدی علاقہ پڑوسی ملک سے 200 کلو میٹر لمبی سرحد سے متصل ہے اور تقسیم ہند سے قبل ہی یہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ صدیوں سے قائم سینکڑوں مساجد، مزارات اور دیگر عبادت گاہیں مقامی تاریخ اور تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں۔


جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں صدر جمعیۃ علماء یوپی مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری، صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی مولانا محمد قاسم نوری قاسمی، دہلی ہائی کورٹ کے معروف وکیل ایڈوکیٹ محمد طیب خان، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے سکریٹری مفتی محمد حسان ابراہیم قاسمی شامل ہیں جبکہ ریاستی جمعیۃ کی جانب سے جمعیۃ علماء راجستھان کے صدر مولانا حبیب اللہ قاسمی، ناظمِ تنظیم مولانا محمد الیاس قاسمی، مولانا نور محمد، مولانا ملوک، شیر محمد، مولانا ہاشم، مولانا علی محمد اور دیگر مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔