دہلی: ’گوڈ‘ کی جگہ ’اللہ‘ کے استعمال پر امیدوار کا پرچہ نامزدگی رد!

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی کا الزام ہے کہ پرچہ نامزدگی کے ساتھ داخل کئے جانے والے حلف نامہ میں ’گوڈ‘ کی جگہ ’اللہ‘ کا استعمال کرنے کی وجہ سے ہی ان کا پرچہ نامزدگی رد کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

نئی دہلی(پریس ریلیز): شمال مشرقی دہلی لوک سبھا سیٹ سے ایس ڈی پی آئی امیدوار ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی کا پرچہ نامزدگی خارج کر دیا گیاہے۔ ان کا الزام ہے کہ پرچہ نامزدگی کے ساتھ داخل کئے جانے والے حلف نامہ میں ’گوڈ‘ کی جگہ ’اللہ‘ کا استعمال کرنے کی وجہ سے ہی ان کا پرچہ نامزدگی رد کیا گیا ہے۔ شمال مشرقی دہلی لوک سبھا حلقے کی رئٹیرنگ آفیسر ششی کوشل نے 24 اپریل کی دوپہر کو پرچہ رد کئے جانے کا اعلان کیا تھا۔

تسلیم رحمانی کا الزام ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے زبانی طور پر حلف نامے میں خامیاں ہونے کی وجہ سے پرچہ خارج کرنے کی بات کہی ہے جبکہ اس کی کوئی تحریری اطلاع نہیں دی گئی، بہت اصرار کرنے کے بعد جمعرات کی دوپہر تحریری اطلاع دی گئی۔ ڈاکٹر رحمانی کے مطابق انہوں نے الیکسن کمیشن آف انڈیا اور دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو 24 اپریل کو ہی بذریعہ ای میل اس معاملے کی شکایت درج کرادی تھی اور فون پر بھی متعلقہ افسران سے رابطہ کیا گیا لیکن کمیشن کی طرف سے تا ہنوز کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایک پریس جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے بتایا کہ 22 اپریل کو نامزدگی کے کاغذات داخل کرتے وقت حلف نامے میں کچھ معمولی خامیوں کی نشاندہی کی گئی اور دسرا حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو اگلے دن ہی جمع کر دیا گیا تھا مگر متعلقہ افسران نے دوسرے حلف نامے کو نہ تو چیک کیا اور نہ ہی اس پر کسی اعتراض کا اظہار کیا 24 تاریخ کو یہ کہہ کر پرچہ خارج کر دیا گیا کہ حلف نامہ غلط ہے خط میں بھی رئٹیرنگ افسر نے خارج کرنے کی وجہ بیاں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حلف نامے میں موجود خامیوں کو دور نہیں کیا گیا جو سرا سر غلط بیانی ہے اس کی شکایت بھی الیکشن کمیشن کو کر دی گئی ہے۔

ڈاکٹر رحمانی نے مزید کہا کہ دراصل پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت اردو میں حلف لینے پر اصرار کیا تھا جیسے ریٹرنگ آفیسر نے یہ کہہ کر خارج کر دیا گیا کہ اردو میں حلف برداری کا ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے اس پر ایس ڈی پی آئی امیدوار ڈاکٹر رحمانی نے ریٹرنگ آفیسر سے جرح کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے الیکشن کمیشن کا حکم بھی ہے کہ اردو مین امیدواری فارم اور ووٹر لسٹ وغیرہ فراہم کی جائے گی پھر اردو میں حلف برداری کا انتظام کیوں نہیں ہے جس پر وہاں موجود افسران نے بڑے ڈھٹھائی سے جواب دے دیا کہ ابھی ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے آپ پرچہ داخل کریں یا نہ کریں مجبوراـانگلیش مین حلف لینے پر راضی ہونا پڑا۔اس میں بھی اللہ کی نام پر حلف لینے کے بجائے گاڈ کے نام پر حلف لینے کا اصرار کیا گیا جیسے ڈاکٹر رحمانی نے سرے سے خارج کر دیا ۔ جس پر ریٹرننگ آفسر نے ناگواری کا اظہار کیا تھا۔ اس سب واقعے کی ویڈیو ریکاڈنگ الیکشن دفتر میں موجود ہے۔

ڈاکٹر رحمانی نے نامزدگی خارج کئےجانے کے بعد کہا ہے کہ دہلی میں الیکشن کمیشن تمام اصول وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر من مانے طریقے سے کام کر رہا ہےکسی قسم کی شفافیت نہیں برتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اردو میں ووٹر لسٹ پڑھنے کی آپشن موجود ہے مگر اسے کھولنے کی کوشش کریں تو پیج خالی ملتا ہے اس طرح اردو پڑھنے والے لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے سے زبردستی روکا جارہا ہے خوصا ایس ڈی پی آئی جیسی اہم جماعت جو دہلی کے اس حلقے پر تمام بڑی پارٹیوں کے مد مقابل رہ کر برابر کا مقابلہ کرکے سیٹ جیتنے کی پوزیشن میں تھی اسے اس قسم کے فرضی معتصبانہ رویہ اختیار کرکے جمہوری عمل میں حصہ لینے سے روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے متعلقہ افسران اور محکموں میں شکایت درج کر دی ہے اور خاطر خواہ جواب موصول نہ ہو تو پارٹی عدالت میں جانے بھی گریز نہیں کرے گی۔