حضرت عائشہ پر وسیم رِضوی کی فلم، دہلی اقلیتی کمیشن نے بھیجا نوٹس

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو بھی خط لکھا اور کہا ہے کہ ’’یہ فلم حد درجے کی اہانت ہے۔ اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوں گے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

نئی دہلی: میڈیا رپورٹوں اور دہلی کے کچھ باشندوں کی شکایت پر دہلی اقلیتی کمیشن نے یو پی سنٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔ شکایت یہ بھی ملی تھی کہ وسیم رضوی حضور پاک کی زوجۂ طاہرہ حضرت عائشہ کے بارے میں ایک فلم بنارہے ہیں یا بنا چکے ہیں۔ خبروں کے مطابق انھوں نے اپنی فلم کا ایک ٹریلر ریلیز کیا ہے اور اس متنازع پروجیکٹ کے بارے میں بیانات بھی دیئے ہیں۔اس فلم کی خبروں سے مسلمانان ہند سخت ناراض ہیں۔ اس کے پیش نظر وسیم رضوی کو کمیشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 2 اکتوبر تک وہ اس فلم کے تعلق سے وضاحت پیش کریں گے۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے وسیم رضوی سے کچھ سوال کیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ اپنا جواب فائل کریں۔ یو پی سنٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین سے پوچھا گیا ہے کہ (1) اس پروجیکٹ کا مقصد کیا ہے (2) اس وقت یہ پروجیکٹ کس مرحلے میں ہے اور (3) کیا اس فلم کے لیے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن سے اجازت لی گئی ہے، یا اس کے لیے درخواست دی گئی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے ساتھ ہی وسیم رضوی کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ کمیشن کو مذکورہ فلم یا اس کے ٹریلر کا سی ڈی فراہم کریں۔ علاوہ ازیں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے اجازت نامے یا اس کے لیے دی گئی درخواست کی کاپی مہیا کریں اور فلم کی اسکرپٹ کے ساتھ اس کے لکھنے والے ، ریسرچ کرنے والے اورڈائرکٹر وغیرہ کے نام بھی بتائیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے آرڈر میں مزید کہا ہے کہ ’’چونکہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے، اس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوں گے، اور بڑے پیمانے پر تشدد پھیل سکتا ہے۔ نیز ہمارے ملک کی اس سے بےعزتی ہوگی، اس لیے جب تک یہ کیس نیم عدالتی اختیارات کی مالک دہلی اقلیتی کمیشن میں درج ہے، آپ اس پروجیکٹ پر مزید کوئی کام نہیں کریں گے‘‘۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اس فلم کے تعلق سے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو بھی خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’یہ فلم حد درجے کی اہانت ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات نہ صرف ہندوستان میں مشتعل ہوں گے بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں بھی غصے کی لہر دوڑے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ پیغمبر اسلام کی زوجہ پر فلم نہیں بنائی جاسکتی ہے بلکہ ان کا کارٹون تک نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہماری سڑکوں پر تشدد پھیلے گا ۔‘‘ خط میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان مزید لکھتے ہیں کہ ’’آپ سے درخواست ہے کہ اس اہانت انگیز فلم کو اجازت نامہ نہ دیں‘‘۔ اقلیتی کمیشن کے صدر نے اپنے خط میں مذکورہ بورڈ کو مزید مطلع کیا ہے کہ ’’اگر یہ فلم ریلیز ہوتی ہے تو ہم کم از کم صوبہ دہلی میں اس پر پابندی لگادیں گے‘‘۔

Published: 19 Sep 2019, 4:10 PM