دہلی اقلیتی کمیشن کے ایوارڈز کا اعلان

اپنے بچے کے قتل کے باوجود امن برقرار رکھنے والے آسنسول کے امام امداد الرشیدی اور جان پر کھیل کر ایک مسلم نوجوان کو ہجومی تشدد سے بچانے والے سب انسپکٹر گگن دیپ سنگھ کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔

پریس ریلیز

تصویر: دیلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منائے گئے یو این ہیومن رائٹس ڈے کی تقریب کا منظر (20 دسمبر)

نئی دہلی (پریس ریلیز): دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سال سے ایوارڈز دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ انعام اقلیتوں میں بہترین کارکردگی کرنے والوں کے لئے ہیں لیکن این جی اوز، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والوں میں اکثریتی افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن اس سال تعلیمی امتیاز (ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ میں بہترین نمبر لانے والے طلبہ وطالبات)، اساتذہ ٔ امتیاز، ممتاز اسکول، معاونین اقلیت، فرقہ وارانہ یکجہتی کے چیمپئن، حقوق انسانی کے چیمپئن، کمیونٹی سروس، اہمیت کے حامل صحافی، ممتاز این جی اوز، اردو اور پنجابی کو فروغ دینے والے، ممتاز کھلاڑی اور خصوصی ایوارڈز فراہم کرے گا۔

انعام پانے والے بچوں میں عائشہ شمیم (رابعہ گرلز اسکول ) شامل ہے جس نے اس سال ہائی اسکول کے امتحان میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کئے۔ ان میں بچوں کا گھر دریا گنج کی دو طالبات شہناز اور روزی بھی شامل ہیں جنہوں نے غیر معمولی حالات کے باوجود بہترین تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

بہترین اسکولوں میں بلی ماران کا رابعہ گرلز اسکول اور حضرت نظام الدین کا نیو ہورائزن اسکول شامل ہیں جبکہ معاونین اقلیت کے زمرے میں جامعہ کوآپریٹیو بینک، ڈاکٹر ظفر محمود (صدر زکوٰۃ فاؤنڈیشن) اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے لئے سرگرم لوگوں میں ڈاکٹر مفتی مکرم احمد شاہی امام مسجد فتح پوری، فیصل خان (خدائی خدمت گار)، سوامی اگنی ویش اورپروفیسر ویپن ترپاٹھی کے ساتھ آسنسول کے امام امداد الرشیدی شامل ہیں جنہوں نے اپنے بچے کے قتل کے باوجود اپنے شہر میں دنگا نہیں ہونے دیا۔ اس زمرے میں نینی تال کے پولس سب انسپکٹر گگن دیپ سنگھ بھی شامل ہیں جنہوں نے جان پر کھیل کر ایک مسلم نوجوان کو ہجومی تشدد سے بچایا۔

حقوق انسانی کے چمپئنز میں انہد کے سابق مینجنگ ٹرسٹی اویس سلطان خان، جون دیال، کولن گونزالویس، اور روی نائر شامل ہیں اور ممتاز کمیونٹی سروس کرنے والوں میں ارتضیٰ قریشی کی قائم کردہ تنظیم مرہم، گردوارہ بنگلا صاحب میں ڈیرا کرسیوا کے مکھی بابا بچن سنگھ اور غریبوں کو اسپتالوں میں مفت بستر دلانے والے کپل چوپڑا شامل ہیں۔

اہمیت کے حامل صحافیوں میں روزنامہ انقلاب کے فرزان قریشی، ہندی روزنامہ پرایوکتی کے گلزار احمد، زی میڈیا کے محمد شعیب اور نیوز -18 کے خرم علی شہزاد شامل ہیں جو اقلیتوں کے مسائل اور خبریں کور کرتے رہتے ہیں۔ ممتاز این جی اوز میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی بزنس اینڈ ایمپلائمنٹ بیورو، ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن، انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ، اور روشن این جی او انعام یافتگان میں شامل ہیں۔

اردو اور پنجابی کے فروغ کے لئے کوشاںشخصیات میں سنجیو صراف (ریختہ)، گیانی ترسیم سنگھ، حکیم سید احمد خان اور فاروق ارگلی انعام حاصل کر نئے والوں میں شامل ہیں۔ کھلاڑیوں میں دو معذور کھلاڑی جوگندر سنگھ سالوجا اور ایریک پال شامل ہیں جو معذوری کے باوجود اپنی قومی اور بین الاقوامی شناخت بنا چکے ہیں۔

خصوصی ایوارڈز میں گجرات کے ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی آفرین شیخ ،جس نے گجرات بورڈ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ، شبیر شاہ کی بیٹی سما شیخ جس نے کشمیر بورڈ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی اور بچوں کا گھر دریا گنج شامل ہیں جس کی دو بچیوں نے اعلیٰ ترین تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ انعامات پیر کے روز وگیان بھون میں دہلی اقلیتی کمیشن کی سالانہ کانفرنس کے دوران دئے جائیں گے جس میں چیف گیسٹ دہلی اسمبلی کے اسپیکر رام نوا س گوئل اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا ہیں اور مہمانان خصوصی میں وزیر مالیات کیلاش گہلوٹ ، وزیر رفاہ عامہ راجندر پال گوتم اور پلاننگ کمیشن کی سابق ممبر ڈاکٹر سیدہ سیدین حمیدشامل ہیں۔

اس کانفرنس میں صدر اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کمیشن کی پچھلے ایک سال کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سیاسیات کے استاد پروفیسر آفتاب عالم قومی اور بین الاقوامی تناظر میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں سیر حاصل لیکچر دیں گے۔