بی جے پی اور عآپ صرف سنہرے خواب دکھا کر ووٹ مانگ رہی ہیں: سبھاش چوپڑا

دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر سبھاش چوپڑا کا کہنا ہے کہ ’’دہلی میں سبھی اراکین پالیمنٹ بی جے پی کے ہیں پھر بھی مرکزی حکومت کی سوچھ بھارت ابھیان کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔‘‘

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صوبائی صدر سبھاش چوپڑا نے آج اپنے ایک بیان میں بی جے پی اور عآپ دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ بی جے پی گزشتہ 13 سالوں سے دہلی نگر نگم پر قابض ہے اور کیجریوال 5 سالوں سے دہلی کے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہیں، لیکن آج دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے عوام سے کئے گئے اپنے کتنے وعدے پورے کئے ہیں؟ سبھاش چوپڑا کہتے ہیں کہ یہ پارٹیاں صرف ترقی کے سنہرے خواب دکھا کر لوگوں سے وعدے کر ہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں سبھی اراکین پالیمنٹ بی جے پی کے ہیں اور مرکزی حکومت کی سوچھ بھارت ابھیان کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ دہلی نگرنگم کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہے کہ ان کے مرکزی وزیر داخلہ الیکشن میں گلی گلی گھوم کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ دہلی کی عوام میں اتنا غصہ ہے کہ انھیں کالے جھنڈے دکھا کر اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سبھاش چوپڑا نے آج امبیڈکر نگر اسمبلی حلقہ کے کانگریس امیدوار یدوراج سنگھ چودھری، دیولی اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار اروند سنگھ لولی اور گوکل پوری اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار ڈاکٹر ایس پی سنگھ کے الیکشن دفاتر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’دونوں پارٹیوں (بی جے پی اور عآپ) کی ناکامی عوام کے سامنے ہے اور انھیں کسی چیز کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دہلی کے لوگ ان دونوں پارٹیوں کے ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بیچ پس ر ہے ہیں۔ دہلی کی عوام یہ خوب جانتی ہے کہ کس کی حکومت سے ان کا فائدہ ہونے والا ہے، کیوں کہ امت شاہ و کیجریوال کے ذریعہ کئے گئے جھوٹے وعدوں اور دھوکوں سے عوام ناخوش ہے۔‘‘ سبھاش چوپڑا نے اپنے بیان میں آگے یہ بھی کہا کہ ’’ان (امت شاہ) کے فرقہ وارانہ بیان سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے اور اس سے ان کے گھمنڈ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے۔ بی جے پی اور عآپ نے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس سے بہتر تو کانگریس کی ہی حکومت تھی۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بہتر کیا ہے۔‘‘

سبھاش چوپڑا نے اپنے بیان میں شہریت ترمیمی قانون کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’شہریت قانون کے ایشو پر حکومت کے برتاؤ سے جس طرح یورپ کی پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ میں بحث ہوئی اس نے مودی کے سوچ کی قلعی کھول دی ہے۔ آج ملک اور دہلی کی عوام اس بات پر ایک جٹ ہیں کہ کانگریس ہی حکومت کرنے لائق ہے۔‘‘

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق رکن اسمبلی انل بھاردواج اور ترجمان پروفیسر رتن جین نے اس موقع پر کہا کہ آج دہلی کے مختلف محکموں میں، مثلاً ڈی ٹی سی، جل بورڈ، بجلی محکمہ وغیرہ میں گزرے 5 سالوں میں خسارہ بڑھا ہے۔ کیجریوال نے دہلی کے خزانہ کوخالی کردیا ہے اور دیوالیہ کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی کی عوام واپس کانگریس کی حکومت کو لانا ضروری سمجھ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس امیدواروں نے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں عوامی رابطہ کا ایک دور پورا کر لیا ہے۔ اب آنے والے دنوں میں مشہور ہستیوں کے پرچار کا دور شروع ہوگا۔ اس ماحول سے بی جے پی اور عآپ کی حکومتوں کی سانس پھول رہی ہے۔ اشتہاروں والی حکومتیں زمین کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اشتہاروں کے ذریعہ لوگوں کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔