’گلزار دہلوی کی رحلت گنگا-جمنی تہذیب کے لیے ناقابل تلافی نقصان‘

گلزار دہلوی کے انتقال پر انجمن تعمیر اردو کے ذریعہ ایک آن لائن تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی اردو کے تئیں محبت اور گنگا-جمنی تہذیب کو فروغ دینے کے جذبہ کا خصوصی طور پر ذکر ہوا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی:جمعہ کی شام معروف صحافی مودود صدیقی کی صدارت میں انجمن تعمیر اردو دہلی کی ایک ہنگامی تعزیتی نشست کا انعقاد آن لائن کیا گیا جس میں انجمن کے بانی صدر جناب گلزار دہلوی کے انتقال کو نہ صرف اردو کےپس منظر میں عظیم سانحہ قرار دیا گیا بلکہ ان کی اردو کے فروغ میں خدمات کو ناقابل فراموش بھی ٹھہرایا گیا۔اس موقع پر آلوک سریواستوا شاز جہانی نےخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "فروری میں میرے غریب خانے پر منعقدہ شعری نشست ان کی آخری ادبی نشست ثابت ہوئی۔گلزار صاحب نہ صرف مقبول شاعر تھے بلکہ ان کی ذات خود ایک انجمن تھی۔"

انجمن تعمیر اردو کے جنرل سکریٹری رؤف رامش (جنھیں گلزار صاحب نے فروری میں بحیثیت صدر تحریری طور پر انجمن کا جنرل سکریٹری نامزد کیا تھا) نے گلزار دہلوی کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "انھوں نے نامساعد حالات میں ببا نگ دہل نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں اردو کے فروغ کے لیے جو کار ہائے نمایاں انجام دیں، وہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔انھوں نے تقسیم وطن کے بعد اردو کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔اردو بازار دہلی میں انجمن کی جانب سے ادبی نشستوں کے ذریعے نئی نسل میں ادبی ذوق پیدا کیا۔"

آن لائن تعزیتی نشست میں تابش خیرآبادی نے بھی شرکت کی۔ انھوں نے کہا کے "گلزار صاحب کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر نہیں کیا جا سکتا۔" اس موقع پر مشہور شاعر ڈاکٹر فریاد آذر نے خراج عقیدت پش کرتے ہوئے کہا کے "اردو دنیا ایک سچے محب اردو سے محروم ہو گئی۔" اس نشست کے صدر مودودصدیقی نے شرکاء کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ "رؤف رامش کے توسط سے چند ماہ قبل ان کی رہائش گاہ پر عیادت کی تھی۔ علالت کے باوجود جس طرح جوش وخروش سے انھوں نے پذیرائی کی وہ گنگا جمنی تہذیب کی مثال تھی۔ گلزار دہلوی جیسی شخصیت کا رخصت ہونا یقیناً دو تہذیبوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔"