جزائر انڈمان میں جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی مشورہ شروع، نوجوانوں کی تربیت، مثالی مسجد اور سالانہ کیلنڈر پر زور
ملک بھر کے صوبائی صدور و نظمائے اعلیٰ کی شرکت، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں متعدد نئے پروجیکٹس کا روڈ میپ پیش ہوگا۔

پورٹ بلیئر: جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ریاستی و علاقائی یونٹوں کے صدور و نظمائے اعلیٰ کا آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ آج جزائر انڈمان و نکوبار کے شہر سر وجے پورم، پورٹ بلیئر واقع ہوٹل اے آر پرائیڈ ریزیڈینسی میں باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ یہ سہ روزہ مرکزی اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند انجام دے رہے ہیں۔
اس اہم موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا قاری محمد امین نائب صدر جمعیۃ علماء ہند سمیت کئی اہم مرکزی شحصیات بھی موجود ہیں۔ یہ مشورہ آئندہ مہینوں میں جمعیۃ علماء ہند کی تنظیمی سمت، سماجی کردار، نوجوانوں کی تربیت اور ملی خدمات کے عملی خاکے کو حتمی شکل دینے کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ آج شام 6 بجے پہلی نشست کا آغاز ہوا جس کی صدارت مفتی شرف الدین قاسمی صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار نے کی، جبکہ دوسری نشست کی صدارت مولانا سعید احمد صدر جمعیۃ علماء منی پور نے کی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر جمعیۃ علماء جزائر انڈمان و نکوبار مفتی شرف الدین قاسمی نے کہا کہ جزائر انڈمان ہندوستان کی آزادی، قربانی اور استقامت کی زندہ تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں کالا پانی کی صعوبتوں نے مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بنا دیا۔ انہوں نے اس تاریخی مقام پر مرکزی ششماہی مشورہ کے انعقاد کو نہایت بابرکت اور بامعنی قرار دیا اور آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ ملک کی دینی، ملی، تعلیمی، رفاہی اور آئینی خدمات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور آج بھی تنظیم ملک بھر میں عوامی رہنمائی، سماجی اصلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

اس کے بعد مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جس کے بعد مختلف ریاستی یونٹوں کی کارگزاریوں کی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ صدور و نظمائے اعلیٰ حضرات نے اپنے اپنے صوبوں کی تنظیمی پیش رفت، تعلیمی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور ملی خدمات کی عددی رپورٹ پیش کی۔ دیر شام دوسری نشست میں صدر جمعیۃ علماء ہند نے جمعیۃ یوتھ کلب کی موجودہ صورت حال اور آئندہ کے اقدامات پر خصوصی گفتگو کی۔ اس موقع پر نوجوانوں کی فکری تربیت، قیادت سازی، سماجی خدمت اور جمعیۃ کے مشن سے مؤثر وابستگی پر زور دیا گیا۔ اسی نشست میں’مثالی مسجد‘ کے عنوان سے مولانا محمد عمر قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوبی ہند نے رہنما پریزنٹیشن پیش کی جس میں مسجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، تعلیمی بیداری، اخلاقی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنانے کے حوالے سے جامع نکات پیش کیے گئے۔
آئندہ کی نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کی مقامی و ضلعی یونٹوں سے لے کر صوبائی یونٹوں کے لیے میٹنگوں کا سالانہ کیلنڈر، نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس، اصلاحِ معاشرہ پروگرام، بالخصوص ائمہ کی ٹریننگ، میرج کاؤنسلنگ، رفیق پروجیکٹ، خیر پروجیکٹ، سیرت کوئز پر تفصیلی گفتگو اور ممکنہ فیصلے متوقع ہیں، جس سے جمعیۃ علماء ہند کی آئندہ سرگرمیوں کی سمت واضح ہوگی۔ آج شام نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا جس کی سعادت مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء یوپی اور ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کو حاصل ہوئی۔ ازیں قبل آج دوپہر کے وقت شرکاء کی آمد کے بعد نمازِ ظہر اور ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا، جس کے بعد معزز مندوبین کے لیے تاریخی راس جزیرہ کی زیارت کا خصوصی پروگرام رکھا گیا۔ شرکاء نے اس موقع پر جزائر انڈمان کی تاریخی اہمیت، آزادی کی جدوجہد سے وابستہ یادگاروں اور قدرتی حسن کا مشاہدہ کیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔