چوڑی فروخت کرنے والے تسلیم کو ملی ضمانت، عمران پرتاپ گڑھی کی کوشش رنگ لائی

اندور میں چوڑی فروخت کرنے والے مسلم نوجوان تسلیم کی پٹائی کا معاملہ خوب مشہور ہوا تھا اور اس پر ہندو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ چھیڑ خانی کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن اب اسے ضمانت مل گئی ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی
عمران پرتاپ گڑھی
user

پریس ریلیز

اندور: اندور میں چوڑی فروخت کرنے والے نوجوان تسلیم کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کچھ مہینے قبل خوب سرخیاں بنا تھا۔ اس پر کچھ لوگوں نے ہندو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ چھیڑخانی کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ اب تسلیم چوڑی والے کی ضمانت ہائی کورٹ نے منظور کر لی ہے۔

تسلیم چوڑی والا جو اتر پردیش کے ہردوئی کا رہنے والا ہے اور اندور میں رہ کر چوڑیاں فروخت کر اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔ گزشتہ 22 اگست 2021 کو تسلیم جب اندور کے باڑگنگا علاقے میں چوڑی فروخت کر رہا تھا تب ہی کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کرتے ہوئے مارپیٹ کی۔ تسلیم کی پٹائی کی ویڈیو سبھی جگہ وائرل ہو گئی۔


ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی اقلیتی محکمہ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی کی دخل اور کافی کوششوں کے بعد پولیس نے معاملے کو درج کیا کیونکہ ریاست کی بھاجپا حکومت اور ان کے لیڈران ملزمان کو بچانا چاہتے تھے اور ملزمان کو بھاجپا لیڈران کی تحفظ حاصل تھا اور معاملہ درج ہونے کے دو دن بعد پولیس نے بھاجپا حکومت کے دبائو میں آکر متاثرہ کے خلاف ہی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ درج کر کے تسلیم کو جیل بھیج دیا۔

اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی اقلیتی محکمہ کے راشٹریہ صدر عمران پرتاپ گڑھی نے معاملے کو سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش اقلیتی محکمہ کو حکم دیا کہ اس معاملے میں متاثرہ تسلیم کی ہر ممکن قانونی مدد کی جائے کیونکہ یہ معاملے پہلے ہی نظر میں ماب لنچنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی کے حکم پر ایڈووکیٹ علیم شیخ نے معاملے کی پیروی شروع کی اور بتایا کہ جس طرح پولیس موجودہ حکومت کے کہنے پر متاثرہ کو ہی ملزم بنا رہی ہے وہ قابل مذمت ہے۔


آج ہائی کورٹ نے اس معاملے میں انصاف دیا اور جس طرح پوری مضبوطی کے ساتھ عمران پرتاپ گڑھی اور کانگریس اقلیتی محکمہ اس معاملے میں کھڑا رہا اس کے لیے عمران پرتاپ گڑھی اور کانگریس اقلیتی محکمہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ اس معاملے میں علیم شیخ ایڈوکیٹ کے ساتھ وکیل احتشام ہاشمی، دیپک بندیلا، جولنت سنگ اور رکن اسمبلی عارف مسعود کی قابل تعریف مدد رہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔