مسلمانوں کو اپنی شناخت چھپانے کا مشورہ ہجومی تشدد کا حل نہیں: مولانا محمود مدنی
مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نئی دہلی: صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کی جانب سے مسلمانوں کو ہجومی تشدد سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی وضع قطع بدلنے اور روایتی لباس جیسی ظاہری علامات ترک کرنے کے مشورے کو حقائق سے چشم پوشی اور مسئلے کی غلط تشخیص قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ کسی سابق آئی اے ایس افسر یا کسی دوسرے ذمہ دار شخص کی جانب سے مسلمانوں کو ایسا مشورہ دیا جانا نہایت افسوس ناک اور قابل تشویش امر ہے، کیونکہ مسئلہ مظلوم کی داڑھی، اس کے سر کی ٹوپی، کسی خاتون کے حجاب یا کسی شخص کے کرتے پاجامے میں نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ حملہ آور کے ذہن میں موجود نفرت اور اس ماحول میں ہے جس میں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے مجرم کو روکنے اور سزا دینے کے بجائے مظلوم سے اپنی شناخت مٹانے کا مطالبہ نہ انصاف ہے اور نہ کوئی مہذب جمہوری ملک اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اور ان کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ان واقعات میں افواہ یا الزام کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ تمام واقعات کا یہاں احاطہ ممکن نہیں، تاہم بطور مثال چند بڑے واقعات کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً 2015 میں دادری (اترپردیش) میں محمد اخلاق کا قتل، 2018 میں الور راجستھان میں رکبر خاں اور ہاپوڑ (اترپردیش) میں قاسم قریشی کا ہجومی تشدد میں قتل، 2019 میں جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کا ہجومی قتل، 2023 میں بھرت پور راجستھان کے ناصر اور جنید کو گاڑی سمیت زندہ جلا دیا جانا، اور 2024 میں چرخی دادری ہریانہ میں مقیم بنگالی مسلم مہاجر مزدور صابر ملک کا وحشیانہ قتل... ان تمام واقعات میں متاثرین کا لباس حملے کی بنیادی وجہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کی مسلم شناخت والی وضع قطع تھی۔
مولانا مدنی نے تاریخ کے حوالہ سے کہا کہ بوسنیا کے مسلمان زبان، لباس، ظاہری وضع قطع اور معاشرت کے اعتبار سے اپنے عیسائی ہمسایوں سے الگ نظر نہیں آتے تھے۔ اس کے باوجود انھیں اجتماعی قتل عام، حراستی کیمپوں، انسانیت سوز مظالم اور نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ ان تمام حقائق کی روشنی میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مظلوم نے کیا پہن رکھا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ہجوم کو کسی شہری کا نام پوچھنے، اس کی شناخت جانچنے، اس کی گاڑی کا تعاقب کرنے، اس پر حملہ کرنے اور اسے قتل کرنے کی جرأت کیوں ہوئی؟ اگر ہم اس بنیادی سوال سے توجہ ہٹا کر مظلوم کے لباس اور حلیے پر مرکوز کر دیں گے تو نادانستہ طور پر تشدد کی ذمہ داری مجرم سے ہٹا کر متاثرہ شخص کے کندھوں پر منتقل کر دیں گے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جب کسی کمیونٹی کے خلاف مسلسل نفرت پیدا کی جائے، اسے مشتبہ بنایا جائے اور اس کی اجتماعی شناخت کو خطرے کے طور پر پیش کیا جائے تو صرف شناخت بدلنا کبھی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام قانون کی بالادستی قائم کرنے، سپریم کورٹ کی جانب سے تحسین ایس پوناوالا بنام یونین آف انڈیا مقدمے میں جاری کردہ ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کرنے، بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(2) کو سختی اور غیر جانبداری سے نافذ کرنے اور ہجومی تشدد کے مجرموں کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانے سے ہی ممکن ہوگا۔ اس لیے ملک کے ایسے سمجھدار لوگوں سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر ان بنیادی امور پر توجہ دیں اور ملک کی نیک نامی کے لیے کام کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
