جامعہ ہمدرد کے 14ویں کانووکیشن کا انعقاد

اپنے کلیدی خطاب میں ایل جی ونے کمار سکسینہ نے ہندی اور اردو زبانوں کی اہمیت پر زور دیا اور طلباء کو ایک روشن مستقبل کا تصور کرنے کی ترغیب دی۔

<div class="paragraphs"><p>جامعہ ہمدرد میں کانووکیشن کا انعقاد</p></div>

جامعہ ہمدرد میں کانووکیشن کا انعقاد

user

پریس ریلیز

جامعہ ہمدرد، NAAC کی طرف سے '+A' زمرہ میں تسلیم شدہ ایک ممتاز ادارہ، نے آج 21 ستمبر 2023 کو اپنے کیمپس ہمدرد نگر، جنوبی دہلی میں 14ویں کانووکیشن کا شاندار انعقاد کیا۔ دہلی کے عزت مآب لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کانووکیشن کے مہمان خصوصی تھے اور انہوں نے کلیدی خطاب پیش کیا۔ کانووکیشن کی صدارت جامعہ ہمدرد کے چانسلر حماد احمد نے کی۔ جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ایم افشار عالم نے اس متاثر کن اور اثر انگیز تقریب کے لیے غیر معمولی قیادت فراہم کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں ایل جی ونے کمار سکسینہ نے ہندی اور اردو زبانوں کی اہمیت پر زور دیا اور طلباء کو ایک روشن مستقبل کا تصور کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے جامعہ ہمدرد کے فارغ التحصیل طلباء کو نصیحت کی کہ وقت انسان کو کامیاب نہیں بناتا۔ اس کے بجائے اہم یہ ہے کہ کوئی اپنے وقت کا بہترین استعمال کیسے کرتا ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کالج اور یونیورسٹیاں آپ کو علم فراہم کرتی ہیں، بشرطیکہ آپ کے ارادے اور عمل وہی ہوں جو آپ کو شاندار مستقبل کی طرف لے جائیں۔‘‘

جامعہ ہمدرد کے 14ویں کانووکیشن کا انعقاد

ایل جی نے خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے تحقیق اور ہنر کی بنیاد پر اعلیٰ معیار فراہم کرنے میں جامعہ ہمدرد کی خدمات کو سراہا اور یہ بات پاس آؤٹ ہونے والی طالبات اور گولڈ میڈل جیتنے والوں سے ظاہر ہوتی ہے، لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ مرکوز کرائی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال اور اختراع کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا زمانے بھر میں مظاہرہ کیا ہے۔ G20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے معززین گزشتہ 75 سالوں میں ہندوستان کی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ونئے کمار سکسینہ نے جامعہ ہمدرد کے بانی حکیم عبدالحمید صاحب کی لازوال وراثت کو دلی خراج تحسین پیش کیا اور ان کی طرف سے دیے گئے علم کی لازوال سرمائے کو اجاگر کیا۔

جامعہ ہمدرد کے چانسلر حماد احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’یہ کانووکیشن سیکھنے اور استقامت کے جذبے کا جشن ہے۔ ہم اپنے ادارے کی بھرپور اقدار اور علمی فضیلت کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے لیڈروں کی اگلی نسل کو بااختیار بناتے ہیں۔‘‘


جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ایم افشار عالم نے کہا کہ ’’آج کا کانووکیشن تعلیمی فضیلت کے لیے ہماری وابستگی اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ہماری وسعت کا ثبوت ہے۔ ہمیں اپنے طلباء کی کامیابیوں پر فخر ہے اور ہم تمام شعبوں میں جدت اور علم کو فروغ دینے کے لیے وقف ہیں۔‘‘ کانووکیشن کے دوران تین نامور شخصیات جس میں محمد اظہرالدین سابق انٹرنیشنل کرکٹر اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان، ڈاکٹر رمن کانت گرگ، ایک میڈیکل ڈاکٹر اور انڈین ریونیو سروس کے ایک سرکاری افسر اور ڈاکٹر عبدالقادر فضلانی، چیئرمین، فاؤنڈیشن شامل تھے جن کو بالترتیب کھیلوں، پبلک فنانس اور عوامی خدمات میں ان کی شاندار شراکت کے لیے اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔

جامعہ ہمدرد کے 14ویں کانووکیشن کا انعقاد

محمد اظہر الدین نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’جامعہ ہمدرد کی طرف سے یہ اعزاز حاصل کرنے پر مجھے بہت فخر ہے۔ اس ادارے کی فضیلت کا عزم کرکٹ میں میرے تجربات سے گونجتا ہے، اور میں اس پیشکش کے لیئے بہت ممنون سے ہوں۔‘‘ اس موقع پر ڈاکٹر رمن کانت گرگ نے سماجی انصاف کو فروغ دینے میں مساوی ٹیکس کے نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹیکسیشن سماجی عدم مساوات کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں یونیورسٹی کی جانب سے اس پہلو کو تسلیم کرنے کی تعریف کرتا ہوں اور اس اعزاز کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘


ڈاکٹر عبدالقادر فضلانی (ایک ہمدرد انسان دوست اور کئی خیراتی ٹرسٹوں کے بانی) کو معاشرے کے لیے ان کی وقف خدمات کا اعتراف کے طور پر اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔ اپنی تقریر میں ڈاکٹر عبدالقادر فضلانی نے اپنا فلاحی کام جاری رکھنے کا عہد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہماری فاؤنڈیشن کا کام ہمیشہ معاشرے کی خدمت کرنے کی خواہش پر مبنی رہا ہے۔ یہ اعزاز ان نادار افراد کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالنے کے ہمارے عزم کو تقویت دیتا ہے۔‘‘

اس موقع پر جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار ڈاکٹر ایم اے سکندر نے کہا کہ ’’سال 2019 سے 2022 کے مشترکہ کانووکیشن میں 7911 طلبہ کو ڈگریاں دینا ایک مشکل کام تھا۔‘‘ اس تقریب میں مجموعی طور پر 243 پی ایچ ڈی ڈگریاں اور 70 ہونہار انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کو گولڈ میڈل دیے گئے۔ جس میں  34 انڈر گریجویٹ اور 36 پوسٹ گریجویٹ طلباء شاملِ ہیں۔ اس 14ویں کانووکیشن میں مجموعی طور پر 4954 انڈر گریجویٹ طلباء بشمول غیر موجود طلباء کو ڈگریوں سے نوازا گیا جبکہ 2714 پی جی طلباء کو ڈگریاں دی گئیں۔ کانووکیشن میں 500 سے زائد مہمانوں اور قابل فخر والدین کے ساتھ 2000 سے زائد طلباء موجود تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انہوں نے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کے لیے طلبا کے زبردست ردعمل پر طلباء کا شکریہ ادا کیا۔ طلباء اپنی ڈگریاں اور تمغے حاصل کرنے کے بعد پرانی یادوں کو سنجوتے ہوئے خوش تھے اور اپنے اساتذہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پائے گئے

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔