نریندر مودی کی تقریروں سے وزارت عظمیٰ کا وقار مجروح!... نواب اختر

ہندوستانی سیاست کی تاریخ سے اگر نریندرمودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا تو انہیں اپنے دور اقتدار میں کی گئی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

سترہویں لوک سبھا کی تشکیل میں اب چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں کیونکہ عام انتخابات کے 6 مراحل مکمل ہوچکے ہیں، ساتویں اور آخری مرحلے کے لئے 19 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور 23 مئی کو نتائج کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی حکومت کی تشکیل کاعمل شروع ہوجا ئے گا۔ لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر موجودہ سیاسی سرگرمیوں سے ہندوستان کو کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ہوا ہے۔

کلی طور پر اگر جائزہ لیاجائے تو پتہ چلے گا ان انتخابات نے ملک کا نقصان زیادہ، فائدہ کم کیا ہے۔ پورے انتخابی ماحول پر نظر ڈالی جائے اور پھر اس کا محاسبہ کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ تقریباً ڈھائی ماہ تک چلے انتخابی عمل کے دوران ہندوستانی جمہوریت کو کئی مواقع پر ایسے نشیب وفراز سے گزرنا پڑا جس کی نہ توملک کا آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی وطن عزیز کی روح سے یہ مطابقت رکھتا ہے۔

قومی سطح پر چند لوگوں کے منظرعام پر آنے سے 2014 میں نیم برہنہ ہوئی ہندوستانی سیاست کو دھیرے دھیرے حکمرانوں نے پانچ سالوں میں پوری طرح برہنہ کردیا ہے جس میں نہ تو زبان کی حدود کا پاس و لحاظ رکھا گیا اور نہ ہی بیان کا کوئی معیار یہاں تک کہ ہمارے رہنماؤں نے انسانیت کو بھی شرمسار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ بین الاقوامی سطح پر کثیر المذاہب ملک کی منفرد شناخت کے حامل ہندوستان کے عام لوگوں کو ان کی ذات بتا کر ایک دوسرے سے لڑانے،ان کے درمیان نفرت کا زہر گھو لنے اور ملک کی روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کر کے اقدار حاصل کرنے کی خواہشات نے عالمی سطح پر ہندوستان کی عزت کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

انتخابات کا مطلب ہار جیت ہوتا ہے اور اس کا رنگ بھی دھیرے دھیرے زائل ہوتا جاتا ہے مگراس دوران لیڈروں کا طرز عمل اور ان کے ذریعہ استعمال کی جانے والی زبان کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے وہ بھی تب جب اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی زبان کا استعمال کیا گیا ہو۔ انتخابات سے پہلے ہی جہاں ہرطرف یہی کہا جارہا تھا کہ یہ الیکشن کسی خاص موضوع پرنہیں لڑا جا سکتا ہے کیونکہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کے پاس عوام کو بتا نے کیلئے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ نہیں ہے۔ آخر وہی ہو رہا ہے کہ ہر جلسے میں ملک کے وزیراعظم اور حکمراں پارٹی کے لیڈران مخالفین پر ہی لعن طعن کرتے نظرآتے ہیں۔

ہندوستانی سیاست کی تاریخ سے اگر موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے تو انہیں اپنے دور حکمرانی میں کی گئی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ نریند رمودی نے اپنی پانچ سالہ حکمرانی میں انجام دی گئی کارکردگی سے عوام کو واقف کروانے کے بجائے سابق حکمرانوں کی برائیاں کرنے لگے ہیں۔ موجودہ لوک سبھا انتخابات میں ہندوستانی عوام کو یہ معلوم کرنے کی خواہش ہے کہ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے اپنے وعدوں کو کس حد تک پورا کیا ہے۔ نوجوانوں کو 2 کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پرعوام کو جواب دینے کیلئے ان کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایک کثیر الوجود ملک کا وزیراعظم اپنی بدترین حکمرانی سے شرمسار ہونے کے بجائے ملک کے سابق وزرائے اعظم خاص کر گاندھی خاندان کے ارکان کے خلاف سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرر ہے ہیں۔

ہندوستان کے مواصلاتی نظام میں انقلاب لانے والے راجیو گاندھی کے بارے میں نریندر مودی نے جس خراب اور تلخ انداز میں بیان دیا ہے اس سے وزارت عظمیٰ کا وقار مجروح ہوا ہے۔ جب کسی شخص کے پاس اپنے بارے میں کہنے کیلئے کچھ نہ ہو تو وہ دوسروں میں برائیاں نکالتے ہوئے خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ نریندر مودی بھی یہی کرر ہے ہیں۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ روزگار کے میدان میں انہوں نے کیا تیر مارے ہیں یا خواتین کی حفاظت کیلئے انہوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا ہے، کاروباریوں کیلئے کیا سہولت فراہم کی ہے۔

مودی نے 2014 کے انتخابات میں 2 کروڑ ملازمتیں دینے کے وعدے کے ساتھ انتخاب لڑا تھا آج ملک کے نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے۔ بی جے پی کے منشور کا کلیدی وعدہ یہی تھا کہ ہندوستانی نوجوانوں کو بیروزگار رہنے نہیں دیا جائے گا۔ وہیں اپوزیشن پارٹیاں ترقی، روزگار، کسان اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پرانتخابی میدان میں ہیں اور حکومت سے پوچھ رہی ہیں کہ ہرسال دو کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والے کہاں ہیں؟ کسانوں کی خود کشی روکنے اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کا دم بھرنے والے’جملے باز‘ کہاں ہیں؟۔ ان باتوں کا جواب دینے کی بجائے ذمہ دار عہدے پر بیٹھے لوگ وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنے والے محبان وطن کی شہادت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

کیا کوئی شخص ممبئی دہشت گردانہ حملے میں جانباز پولس افسر ہیمنٹ کرکرے کی قابل افتخار شہادت کو ’شراپ‘ سے تعبیر کرنے والی بی جے پی امیدوار سادھوی پرگیہ کے شرمناک تبصرے کو فراموش کرسکتا ہے یا ملک میں مواصلاتی نظام میں انقلاب لانے والے آنجہانی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ملک کا موجودہ وزیراعظم اچانک ’بدعنوان نمبر ایک‘ کہنے لگے تو کیا ایسے لوگوں کی جہالت پر ترس نہیں آئے گا کیونکہ طویل عدالتی کارروائی کے بعد 2004 میں ہائی کورٹ نے راجیو گاندھی کے خلاف یہ کہتے ہوئے بدعنوانی کا الزام خارج کر دیا تھا کہ سی بی آئی کے پاس الزام ثابت کرنے کیلئے قابل قبول ثبوت نہیں ہیں۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ جب انتخابات میں بی جے پی کومحسوس ہونے لگا کہ اس کی کشتی ڈانواں ڈول ہے تو لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مرحلے کے عین موقع پر نریندر مودی نے اس موضوع کو اٹھا دیا حالانکہ یہ بیان مودی کے ساتھ ہی پوری بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

وہیں مرکزی وزیر اور بیگو سرائے سے بی جے پی کے امیدوار گری راج سنگھ نے تو نبی آخرؐ کی صاحبزادی کا نام لے کرحد ہی کردی۔ اب تک مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی گیدڑ بھپکی دینے والے گری راج نے چند روز قبل اپنی زبان نجس سے دختررسول حضرت فاطمہ زہراؑ کا اسم مقدس لے کر جہالت کا ثبوت دیا۔ بھگوا لیڈرکی اس گستاخی نے ملک کے مسلمانوں کے جذبات کو بڑی ٹھیس پہنچائی ہے، کچھ وقفہ کیلئے مان بھی لیا جائے کہ مذکورہ قابل اعتراض بیان بازی کوعوام نظرانداز کر بھی دیں گے مگر شان رسالتؐ میں کی گئی گستاخی قابل معافی نہیں ہے۔

بی جے پی کی یہ کون سی ’راشٹر بھکتی‘ ہے جس میں دیگرمذاہب کے خلاف اشتعال انگیزی کی جائے یا ایک شہری کو دوسرے شہری سے لڑایا جائے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ہمیں باہری دہشت گردوں سے نہیں بلکہ اپنی ہی زمین پر پل رہے انسانیت کے دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ باہری دہشت گرد اپنی کرتوت سے چند لوگوں کی جان ہی لے سکتا ہے وہیں گری راج جیسے لوگوں کی زہرآلود زبان سے کئی نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں مگر حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی اعلیٰ قیادت نے گری راج کے خلاف کوئی ایکشن لینا تو دور، یہ بھی نہیں کہا کہ ان کا ذاتی بیان ہوسکتا ہے، اس کا پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کا ’راشٹرواد‘ محض دکھاوا ہے۔ بی جے پی کا مقصد ملک کی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، ترقی نہیں بلکہ صرف اورصرف اقتدارحاصل کرنا ہے۔

آخر ہمارے ملک کی سیاست کس سمت میں جارہی ہے؟ ہمارے لیڈر تعلیم یافتہ نوجوانان قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا اب ترقی کے نام پر ووٹ نہیں ملتا ہے جو ذات برادری کے معاملے میں سیاستداں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اشتعال انگیزی اور غیر مہذب طرزعمل والے ایسے لیڈروں کو انہیں کی زبان میں سبق سکھایا جائے ورنہ گاندھی، بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خاں کے ملک کا شیرازہ بکھرجائے گا۔

Published: 15 May 2019, 7:10 PM