کیا سشما اور اوما سے سیاسی ہوا کو پڑھنے میں غلطی ہوئی!

نریندر مودی کی دوسری پاری میں ان کے کئی پرانے اور معتمد چہرے ان کے ساتھ کابینہ میں نہیں ہیں۔ ان سابق وزراء کے کابینہ میں نہ ہونے پر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آواز تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی دوسری پاری شروع کر دی ہے اور یہ پاری پہلے سے زیادہ اعتماد اور جارحانہ طریقہ سے شروع کی گئی ہے۔ کل صدر جمہوریہ نے مودی اور ان کے 57 ساتھیوں کو وزارت کے لئے حلف دلایا۔ ان 57 میں سے کچھ لوگ نئے تو کچھ لوگ پرانے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سابقہ کابینہ کے کئی رفقا کو اس مرتبہ کابینہ سے باہر رکھا ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی جنہوں نے پہلے ہی اپنی صحت کی وجہ سے خود کو اس سارے عمل سے باہر کر لیا تھا، وہ اس مرتبہ کابینہ میں نہیں ہوں گے۔ کچھ سابق وزراء نے انتخابات سے قبل ایسے اشاررے دے دیے تھے کہ یا تو وہ وزارت میں آنا نہیں چاہتے یا پھر ان کو کچھ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی حکومت واپس اقتدارمیں نہیں آ رہی ہے۔

سشما سواراج کو وزارت میں نہ لئے جانے کےلئے ان کی خراب صحت کا حوالہ دیا جا رہا ہے لیکن انہوں نے کسی بھی وقت جیٹلی کی طرح کھل کر نہیں کہا کہ وہ اپنی صحت کی وجہ سے وزیر نہیں بنیں گی۔ اسی وجہ سے کل حلف برداری کی تقریب سے کچھ منٹ پہلے تک یہ اٹکلیں جاری تھیں کہ وہ کابینہ میں ہوں گی یا نہیں اور جب وہ وزیروں کی کرسیوں کی جگہ مہمانوں کی کرسیوں پر بیٹھیں تو اس بات پر مہر لگ گئی کہ وہ مودی کی کابینہ میں نہیں ہوں گی۔ اوما بھارتی کا تو صحت کا معاملہ بھی نہیں تھا لیکن ان کو بھی کئی اور لوگوں کی طرح وزارت میں نہیں لیا گیا۔

واضح رہے کہ سشما سواراج اور اوما بھارتی نے انتخابات سے قبل خود کو انتخابی میدان سے علیحدہ کر لیا تھا اور دونوں نے چناؤ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دونوں حقیقت میں انتخابی سیاست سے علیحدہ ہونا چاہتی تھیں یا پھر ان کو یہ امید نہیں تھی کہ بی جے پی 2019 میں دوبارہ اقتدار میں واپس آ ئے گی؟ کیا ان دونوں سے سیاسی ہوا اور اپنی پارٹی کو پڑھنے میں غلطی ہوئی ؟ کیا ان کو ایسا لگ رہا تھا کہ لوگ نوٹ بندی اور بے روزگاری کی وجہ سے بی جے پی سے ناراض ہیں ؟ کیا ان دونوں کو پہلے سے ایسے اشارے مل گئے تھے کہ ان کو آئندہ کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا اس لئے وہ انتخابی سیاست سے پہلے ہی علیحدہ ہو گئی تھیں ؟ وجہ جو بھی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ہی سیاسی موسم اور ہوا کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔

اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مودی اور شاہ ان دونوں کی با عزت سیاسی رخصتی کریں گے یا پھر ان کو سیاسی طور پر غیراہم کر دیں گے۔ اب ان دونوں کی باعزت رخصتی بس اس میں ہے کہ ان کو کسی بڑی ریاست کا گورنر بنا دیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ آنے والے دنوں میں ہندوستانی سیاست میں غیر اہم ہو جائیں گی جیسے دہلی کے وجے کمار ملہوترا۔ ملہوترا نے بی جے پی کو دہلی میں کھڑا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب بی جے پی کی سیاست میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM