سیاسی

سال 2018: مودی سمیت کئی بی جے پی کے رہنماؤں کے نشانہ پر رہیں خواتین

جو لوگ قانون بناتے ہیں ان کے بیانات سے صاف لگتا ہے کہ خواتین ان کے لئے سجاوٹ، عیاشی اور بچے پیدا کرنے کی مشین سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

قومی آواز تجزیہ

سیاسی رہنماؤں کے متنازعہ بیانات ہمیشہ اخبار کی شہ سرخیاں بنتے رہتے ہیں اور ان کے ان بیانات کا اکثر نشانہ خواتین ہی ہوتی ہیں ۔ ان کے لئے خواتین ایک آسان نشانہ اس لئے ہیں کیونکہ ان کے رنگ روپ، قد، موٹاپہ یا بالوں کو لے کر کچھ بھی آسانی سے کہا جا سکتا ہے۔ سال 2018 میں بھی خواتین کے تعلق سے ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں اور یہ اس بات کا عکاس ہے کہ سیاسی رہنما خواتین ریزرویشن بل کے خلاف کیوں ہیں ۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف چھوٹے رہنما ہی خواتین کا مزاق اڑاتے یا ان پر نشانہ سادھتے ہیں بلکہ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی پیچھے نہیں ہیں۔ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں کانگریس رہنما رینوکا چودھی کی ہنسی کا موازنہ شوپرنکھا سے کیا اور اس پر جس انداز سے پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان نے ٹھہاکے لگائے اس سے خواتین کے تئیں جو سیاسی رہنماؤں کی ذہنیت ہے اس کی عکاسی صاف ہوتی ہے۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا لیکن بی جے پی کے رہنماؤں میں احساس ندامت کہیں نظر نہیں آئی۔ مرکزی وزیر مملکت ایم جے اکبر جس وقت ’می ٹو‘ مہم کی زد میں تھے اس وقت دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ادت راج نے اس مہم پر ہی سوال کھڑے کر تے ہوئےڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ خواتین پیسے لے کر الزام لگاتی ہیں ۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ کچھ خواتین جان بوجھ کر مردوں پر ایسے الزام لگاتی ہیں ۔

یہ صرف مرد رہنماؤں تک محدود نہیں ہے اس میں خواتین رہنما بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے سبری مالہ مندر میں خواتین کے داخلے کو منظوری دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوئے ہنگامہ پر دبے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کیا آپ اپنے کسی دوست کے گھر خون سے سنا ہوا سینیٹری پیڈ لے کر جائیں گے، نہیں نہ ‘‘۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش کے گنا سے رکن اسمبلی پنا لال شاکیہ نے انتہائی گھٹیا بیان دیتے ہوئے کہا کہ خواتین چاہے بانجھ رہیں لیکن ایسے بچے کو جنم نہ دیں جو با اخلاق نہ ہوں اور سماج میں برائی پھیلاتے ہوں۔

وہیں دو قدم آگے بڑھتے ہوئے اتر پردیش کے بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم سینی نے تو ہندوؤں کو بچے پیدا کرتے رہنے کا مشورہ دے دیا ۔ انہوں نے انتہائی خراب انداز میں اپنی اہلیہ سے کی گئی بات چیت کو عوام کے سامنے دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا ہے کہ جب تک آبادی کنٹرول کرنے کے لئے کوئی قانون نہ آئے تب تک بچے پیدا کرتے رہو‘‘۔

جب وزیر اعظم ہی ایسا کریں تو آسام کے وزیر اعلی وپلب دیب کیوں پیچھے رہتے ۔ انہوں نے مس ورلڈ ڈائنا ہیڈن کو لے کر ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی بیوٹی ہے ہی نہیں اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ ڈائنا ہیڈن کی جیت فکس تھی اور وہ ہندوستانی خوبصورتی کی نمائندگی نہیں کر تیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ یہی لوگ قانون بناتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون کی قدر اور پرواہ نہیں کرتے ۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لئے خواتین کی کیا حیثیت ہے ۔وہ خواتین کو سجاوٹ، عیاشی اور بچے پیدا کرنے کی مشین سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے ۔ کاش ان رہنماؤں کی سوچ بدل جائے اور خواتین کے لئے کچھ اچھا ہو جائے ۔یہی کہیں گے کے خواتین کے لئے ’یہ سال تو اچھا سال رہے‘ ۔

Published: 30 Dec 2018, 8:05 AM