چاروں طرف سیکورٹی فورسز، سب پر نگاہ، اس طرح وادیٔ کشمیر میں سب کچھ ہے ٹھیک!

جموں میں حالات معمول پر بھلے ہی معلوم پڑیں، لیکن وادی میں سیکورٹی فورسز کی چپے چپے پر تعیناتی ہے۔ حکومت کو خوف ہے کہ پابندی ہٹتے ہی علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہ ہو جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آشا کھوسا

وِملا دھر مرکزی وزارت مالیات میں کام کرتی ہیں۔ یہ ان کا اصل نام نہیں ہے۔ ان کی گزارش پر ان کا اصل نام یہاں نہیں دیا جا رہا ہے۔ وملا گزشتہ ہفتے کشمیر میں تھیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل خدمات پر روک اور آنے جانے پر پابندیوں کو لے کر زمینی حالت سے وہ خود رو برو ہوئی ہیں۔ تین سال پہلے دہشت گردی اور عوامی مخالفت کے دور میں بھاگنے والے ہندوؤں میں ان کی فیملی بھی تھی۔

وِملا بتاتی ہیں کہ وہاں طوفان کے پیچھے کا ٹھہراؤ تھا اور سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ نہیں تھی۔ اس طرح سے سری نگر میں انھیں زندگی معمول کے مطابق لگی۔ وہ مشرقی دہلی میں رہتی ہیں اور وہاں سے فون پر انھوں نے کہا کہ ’’میں کشمیری ہوں اور اسی لیے میں لوگوں کے دماغ پڑھ سکتی ہوں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں، بھلے ہی وہ کچھ نہ بولیں۔ میں نے لوگوں کو پارکوں میں اور سڑکوں پر جاگنگ کرتے دیکھا۔ صبح صبح دودھ والے سائیکلوں سے شہر آ رہے تھے۔ کسی نے حالات کو لے کر کچھ نہیں کہا۔‘‘

ویسے، وملا دھر محفوظ علاقے میں اس ٹورسٹ رسپشن سنٹر میں ٹھہری تھیں جو شہر سے دور ہے اور جسے باہر سے آنے والے افسروں کے ٹھہرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ عام اصول ہے، انھیں پوری سیکورٹی کے ساتھ سرکاری گاڑیوں سے سول سکریٹریٹ لایا اور لے جایا گیا۔ رسپشن سنٹر سے اس کی دوری تقریباً ایک کلو میٹر ہے۔ وہاں سب کچھ عام تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وہاں آتی جاتی رہی ہیں اور سکریٹریٹ میں ماحول سبھی دن سیاست سے متاثر رہا ہے۔ پہلے دن ضلع مجسٹریٹ کے ساتھ میٹنگ کے دوران انھوں نے کشمیر میں سیاسی حالات کو لے کر ایک ہلکا پھلکا تبصرہ کر دیا جس پر افسر نے برسرعام اس طرح کی چیزیں بولنے سے بچنے کو لے کر اشارہ کیا۔ وملا نے کہا کہ ’’انھوں نے میرے منھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ہو سکتا ہے انھیں خوف ہو کہ ان پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔‘‘

وملا سول لائنس علاقے میں رہ رہی تھیں۔ یہاں کافی ساری سرکاری عمارتیں ہیں۔ ویسے، سری نگر شہر کے زیادہ تر دیگر حصوں اور بقیہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی زبردست تعیناتی ہے۔ انھیں تاکید کی گئی ہے کہ پتھر برسانے والی بھیڑ کی طرف سے انہیں بہت زیادہ اکسایا جائے، تب بھی گولی مت چلائیں۔ اس حالت میں کام کر رہے ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے اصل حصے میں پتھر برسانے کے واقعات تقریباً روزانہ ہوئے ہیں۔ حالانکہ تیسرے ہفتے میں اس رپورٹ کو فائل کیے جانے کے وقت بھی پابندی کے احکام نافذ ہیں۔

لگتا ہے حکومت کشمیر علاقے میں طویل مدت کے لیے یہ سب جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ سیکوٹی ہائی الرٹ میں ہے اور ان کی تعیناتی چپے چپے پر ہے۔ جموں علاقے میں حالات معمول پر بھلے ہی نظر آ رہے ہوں، مرکزی حکومت وادی میں سیکورٹی کم نہیں کر سکتی۔ حکومت کو بھی اندیشہ ہے کہ پابندی ایک بار ہٹے گی تو علیحدگی پسندوں کے حامیوں کے ذریعہ بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے مظاہرے سری نگر شہر میں ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے اور حکومت کو اس معاملے میں کوئی خطرہ اٹھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بھلے ہی طویل مدت تک انتظار کرنا پڑے۔

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کرفیو، بند، ہڑتال اور ’سول کرفیو‘ کی طویل مدت کی عادت عام کشمیریوں کو ہو گئی ہے۔ سول کرفیو دہشت گرد اور ان سے ہمدردی رکھنے والے لوگ لگاتے رہے ہیں۔ اب جب سیکورٹی فورسز کافی تعداد میں یہاں ہیں، تو کئی دلچسپ واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ عرشیہ ملک سری نگر کی کشمیری ہیں۔ وہ اتر پردیش کے ایک اہم شہر میں رہتی ہیں اور ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ایک فیس بک پوسٹ لکھی ہے۔ اس بات چیت سے ہی انھوں نے سمجھا کہ ابھی کے غیر معمولی حالات کے درمیان بھی لوگ کس طرح عام زندگی گزار رہے ہیں۔

گھر سے باہر نکلنے پر پابندی کچھ گھنٹے کے لیے ہٹنے کے دوران عرشیہ کی وادی میں اپنے بہنوئی سے بات ہوئی۔ عرشیہ کی بہن کی بیٹی کی شادی تقریباً اسی وقت طے تھی۔ بات چیت کے دوران عرشیہ کو ایسا لگا کہ پیچھے بھاری آواز ہوئی ہے اور وہ کسی برے اندیشہ سے خوفزدہ ہو گئی۔ لیکن ان کے بہنوئی نے بتایا کہ کسی شادی کے مقام پر تو یہ عام شور ہے۔ جب انھوں نے جاننا چاہا کہ اس کشیدگی کے درمیان انھوں نے شادی کی تیاریاں کیسے کیں، تو ان کے رشتہ دار نے کہا کہ ’’یہ عام قسم کی شادی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ 10 کوئنٹل گوشت کی جگہ ہمارا کام 5 کلو سے چل گیا۔‘‘ عرشیہ نے کہا کہ وہ تو ان لوگوں کے بارے میں سوچ سوچ کر مری جا رہی تھی اور آپ لوگ وہاں سے دل لگی کر رہے ہیں۔ اس پر ان کے رشتہ دار نے کہا ’’کیا ہمیں دل لگی نہیں کرنی چاہیے!‘‘

بی جے پی حکومت کا فوکس سخت پابندیوں کے لیے پورا بندوبست کرنے اور کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ ہونے دینے پر لگتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ جموں و کشمیر کو لے کر اتنے بڑے فیصلے سے پہلے سیاسی پارٹیوں کی رائے نہ لینے کی قیمت مرکزی حکومت کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اس طرح کے فیصلے کا بین الاقوامی اثر بھی ہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت کے فیصلے کو بھاری بھڑکم اکثریت حاصل ہوئی، لیکن کشمیر میں طویل مدت تک پابندیوں نے اس فیصلے کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاجی مظاہرہ کا موقع دیا ہے۔ کشمیر میں سبھی سیاسی لیڈروں کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس میں وہ بھی ہیں جو حکومت کا ساتھ دے سکتے تھے اور لوگوں کو اس تبدیلی کا مطلب اور ان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بتا سکتے تھے۔ یہ تو مودی حکومت کا برا آئیڈیا ہی ہے۔